بیجنگ (پاک ترک نیوز) چین میں تیار کیے گئے ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ صرف 9.39 سیکنڈ میں مکمل کرکے دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ کا 9.58 سیکنڈ کا عالمی ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا۔بیجنگ سینٹر فار ہیومنائیڈ روبوٹکس کے تیار کردہ روبوٹ نے یہ کارنامہ ہفتے کے روز بیجنگ میں ہونے والے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز میں انجام دیا۔
یوسین بولٹ نے 2009 میں جرمنی کے شہر برلن کے اولمپک اسٹیڈیم میں 100 میٹر کی دوڑ 9.58 سیکنڈ میں مکمل کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جو آج تک انسانی ایتھلیٹکس میں ناقابلِ شکست ہے۔روبوٹ گیمز کے منتظمین نے چینی روبوٹ کی کارکردگی کو انتہائی متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال اسی مقابلے میں کامیاب روبوٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ 21.50 سیکنڈ میں طے کیا تھا۔
منتظمین کے مطابق صرف ایک سال میں مقابلے میں شامل روبوٹس کی رفتار تقریباً دگنی ہوگئی ہے، جو روبوٹکس کی صنعت خصوصاً چین میں اس شعبے کی تیز رفتار ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔بیجنگ کے مشہور آئس ربن اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز میں 16 ممالک کی 666 ٹیمیں اور 2 ہزار 56 روبوٹس شریک ہیں۔مقابلوں میں دوڑ کے علاوہ باکسنگ، فٹ بال، ویٹ لفٹنگ اور جمناسٹک سمیت مختلف کھیل شامل ہیں۔سوشل میڈیا پر روبوٹس کی دوڑ کی ویڈیوز بھی تیزی سے وائرل ہورہی ہیں۔ بعض ویڈیوز میں روبوٹس تیزی سے دوڑتے ہوئے ریس کے اختتام پر بڑے میٹس سے ٹکراتے اور پھر آہستہ آہستہ پیچھے کی جانب گرتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر صارفین دلچسپ تبصرے بھی کررہے ہیں۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اگرچہ روبوٹس کے گرنے کے مناظر دلچسپ ضرور ہیں، لیکن ان کی رفتار میں ہونے والی غیر معمولی بہتری کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔منتظمین کے مطابق صرف ایک سال پہلے روبوٹس ٹریک پر دوڑ مکمل کرنے میں بھی مشکلات کا شکار تھے، جبکہ اب وہ عالمی ریکارڈز کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں پہنچ گئے ہیں۔چین ہیومنائیڈ روبوٹ کی صنعت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے۔مورگن اسٹینلے ریسرچ کے اندازے کے مطابق ہیومنائیڈ روبوٹس کی عالمی مارکیٹ 2050 تک 5 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس وقت تک دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد ہیومنائیڈ روبوٹس استعمال ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 24 اگست 2006: پلوٹو سیارے کا درجہ کھو بیٹھا، دنیا بھر میں بحث چھڑ گئی
رپورٹ کے مطابق چین میں 2050 تک تقریباً 30 کروڑ 23 لاکھ ہیومنائیڈ روبوٹس استعمال کیے جانے کی توقع ہے۔












