تہران(پاک ترک نیوز ) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے تقریباً 20 روز بعد مذاکرات کے لیے رابطہ کیا، امریکی صدر نے پہلے ایران سے مکمل طور پر سرنڈر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق جنگ کے دوران صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی اور تقریباً 20 روز بعد امریکا نے ایران سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا اور بات چیت کی درخواست کی۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور اپنے مؤقف پر قائم رہا، جس سے ثابت ہوا کہ فوجی دباؤ کے ذریعے ایران سے اپنے مطالبات منوانا آسان نہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ایرانی سر زمین پر قدم رکھنے والے کسی امریکی فوجی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے، ایران
انہوں نے کہا کہ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران خود کو ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست طاقت کے طور پر دنیا کے سامنے ثابت کیا ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق کسی کو توقع نہیں تھی کہ ایران امریکا کے سامنے اس طرح مزاحمت کر سکے گا، خصوصاً اس وقت جب امریکا کو اسرائیل، مغربی ممالک اور بعض دیگر ممالک کی حمایت بھی حاصل تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے جنگ کے دوران ثابت کردیا کہ ملک کے خلاف فوجی دباؤ استعمال کرکے اسے اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا آسان نہیں۔












