دنیا بھر میں بانجھ پن کے بڑھتے ہوئے کیسز طبی ماہرین کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں، خصوصاً مردوں میں اس مسئلے میں مسلسل اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ اب امریکی سائنسدانوں نے اس اضافے کی ایک بڑی ممکنہ وجہ دریافت کی ہے، جس کے مطابق فضائی آلودگی مردوں کی تولیدی صحت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ دیکھیے اس حوالے سے یہ خصوصی رپورٹ۔
آج کے دور میں بانجھ پن صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں میں بھی تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔ امریکا کی میساچوسٹس یونیورسٹی کی نئی تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی مردوں کے ان جینز کو متاثر کرتی ہے جو صحت مند اسپرم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تحقیق میں دو ہزار سے زائد مردوں کی چھ ماہ تک تولیدی صحت اور ڈی این اے میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے دریافت کیا کہ اوزون، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور فضائی آلودگی کے باریک ذرات ڈی این اے میں 39 اہم کیمیائی تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں، جو جینز کے افعال کو متاثر کر کے اسپرم بننے کے عمل کو سست یا کمزور بنا سکتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 17.5 فیصد بالغ افراد اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر بانجھ پن کا سامنا کرتے ہیں۔ ایک اور تحقیق کے مطابق ہر تین بانجھ پن کے کیسز میں سے ایک کا تعلق مردوں سے ہوتا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مردانہ تولیدی صحت بھی عالمی سطح پر ایک اہم طبی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق میں بھی بتایا گیا کہ فضائی آلودگی کے باریک ذرات کی زیادہ مقدار میں پانچ سال تک موجودگی سے 30 سے 45 سال عمر کے مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ 24 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ جبکہ 35 سال سے زائد عمر کی خواتین میں ٹریفک کے شور سے بانجھ پن کا خطرہ 14 فیصد تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹاپا خاموش قاتل بن گیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بانجھ پن کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن فضائی آلودگی اب ایک اہم خطرے کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ ان کے مطابق صاف ماحول، صحت مند طرزِ زندگی، تمباکو نوشی سے پرہیز، متوازن غذا اور باقاعدہ طبی معائنہ نہ صرف تولیدی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ بانجھ پن کے خطرات کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
فضائی آلودگی صرف سانس اور دل کے امراض تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ انسانی نسل کی افزائش پر بھی اثر انداز ہونے لگی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔












