لاہور( پاک ترک نیوز) گائیڈ ڈاگ تو آپ نے بہت دیکھے ہوں گے، لیکن اب چین نے ایسا روبوٹ بنا لیا ہے جو نہ صرف انسان کو راستہ دکھاتا ہے بلکہ سیڑھیاں چڑھتا، رکاوٹیں پہچانتا اور خطرے کی صورت میں خود راستہ بھی بدل لیتا ہے۔چین کے اس جدید روبوٹ کی صلاحیتیں جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔نابینا افراد کے لیے راستہ تلاش کرنا اب شاید پہلے جیسا مشکل نہ رہے۔۔۔چین نے متعارف کرا دیا ایسا روبوٹ گائیڈ جو دیکھ نہیں سکتا۔۔۔ مگر راستہ دکھا سکتا ہے!
گائیڈ ڈاگ تو آپ نے بہت دیکھے ہوں گے، لیکن اب چین نے ایسا روبوٹ بنا لیا ہے جو نہ صرف انسان کو راستہ دکھاتا ہے بلکہ سیڑھیاں چڑھتا، رکاوٹیں پہچانتا اور خطرے کی صورت میں خود راستہ بھی بدل لیتا ہے۔چین کے اس جدید روبوٹ کی صلاحیتیں جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔نابینا افراد کے لیے راستہ تلاش کرنا اب شاید پہلے جیسا مشکل نہ رہے۔۔۔چین نے متعارف کرا دیا ایسا روبوٹ گائیڈ جو دیکھ نہیں سکتا۔۔۔ مگر راستہ دکھا سکتا ہے!
روبوٹ پہلے ہی خطرے کو بھانپ کر رفتار کم یا راستہ تبدیل کر لیتا ہے۔اور اس کی سب سے حیران کن صلاحیت؟اندرونی ماحول میں رکاوٹوں سے بچنے کی کامیابی کی شرح 99 فیصد تک!جبکہ باہر بھی کامیابی کی شرح تقریباً 96 فیصد بتائی گئی ہے۔صرف راستہ دکھانا ہی نہیں۔۔۔یہ روبوٹ آواز کے ذریعے بات چیت، نیویگیشن، یاد دہانی اور ہنگامی مدد کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔خطرہ محسوس ہو تو صارف خود الرٹ جاری کرکے دور موجود رضاکاروں سے مدد طلب کر سکتا ہے۔روبوٹ کو گائیڈ ڈاگ کی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ صارف کے چلنے کی رفتار اور انداز کے ساتھ مطابقت پیدا کی جا سکے۔چین میں بصارت سے محروم افراد کی تعداد ایک کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ ہے، جبکہ گائیڈ ڈاگز کی تعداد صرف تقریباً 400 ہے۔
یعنی لاکھوں افراد کے لیے یہ روبوٹ مستقبل میں ایک نئے سہارا بن سکتا ہے۔اور اب اس روبوٹ کے تجربات سڑکوں سے لے کر پارکس، شاپنگ مالز اور میٹرو اسٹیشنز تک کیے جا رہے ہیں۔گائیڈ ڈاگ کا جدید متبادل۔۔۔سیڑھیاں چڑھنے والا روبوٹ۔۔۔اور 99 فیصد تک رکاوٹوں سے بچنے کی صلاحیت!چین کا یہ روبوٹ صرف ٹیکنالوجی کا کمال ہے۔۔۔یا پھر مستقبل میں انسانوں کا نیا گائیڈ؟





