واشنگٹن(پاک ترک نیوز ) امریکی حکومت کے بڑھتے ہوئے قرض نے مالی دباؤ کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ امریکا کا قومی قرض تقریباً 40 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اس قرض پر سالانہ سود کی ادائیگی 12 کھرب 50 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
سرمایہ کاری کے ادارے ڈبل لائن کے تجزیے کے مطابق 2025 میں امریکی حکومت کی جانب سے قرض پر ادا کیا جانے والا خالص سود حکومتی آمدن کا 18.5 فیصد رہا، جو 1991 میں قائم کیے گئے 18.4 فیصد کے سابقہ ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔
یعنی امریکی حکومت کو حاصل ہونے والی ہر 100 ڈالر آمدن میں سے تقریباً 19 ڈالر صرف قرض کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہے ہیں۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ سود کی یہ رقم امریکا کے 2026 کے پورے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑھتا ہوا سود ایک خطرناک چکر پیدا کر رہا ہے، کیونکہ حکومت کو صرف سود کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینا پڑ سکتا ہے، جس سے بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور معاشی ترقی کے دیگر منصوبوں کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔
عالمی منڈی کے تجزیہ کار ادارے کوبائسی لیٹر کے مطابق 2015 کے مقابلے میں حکومتی آمدن کے تناسب سے قرض پر سود کا بوجھ تقریباً تین گنا بڑھ چکا ہے۔ امریکی بجٹ دفتر نے پیش گوئی کی ہے کہ 2036 تک یہ بوجھ حکومتی آمدن کے 25 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال 1991 کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے۔ اس وقت عوام کے پاس موجود امریکی حکومتی قرض مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 44 فیصد کے برابر تھا، جبکہ آج یہ قرض 32 کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے اور مجموعی قومی پیداوار کے 100 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
معاملہ مزید پیچیدہ اس وقت ہوگیا ہے جب مصنوعی ذہانت کے شعبے کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی بڑے پیمانے پر قرض لینا شروع کردیا ہے۔ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ بڑی کمپنیوں نے تقریباً 22 کھرب 50 ارب ڈالر کے بانڈز جاری کیے۔
امریکی وزارت خزانہ نے بانڈ مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے 10 سے 30 سال مدت والے بانڈز کی دوبارہ خریداری کا حجم 2 ارب ڈالر سے بڑھا کر کم از کم 4 ارب ڈالر فی کارروائی کردیا ہے۔












