نیو یارک ( پاک ترک نیوز) عالمی ادارہ خوراک کی سربراہی میں پاکستان انٹر ایجنسی ہیومینیٹیرین گروپ نے پاکستان میں مہنگائی غربت،غذائی قلت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے رپورٹ جاری کر دی ،رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت، مہنگائی، غذائی قلت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اہم چیلنج بن چکے ہیں، پاکستان میں غربت کی شرح 28.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔معیارِ زندگی برقرار رکھنے کے لیے شہری گھرانے کو ماہانہ 66 ہزار جبکہ دیہی گھرانے کو 65 ہزار روپے درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ ایران کشیدگی ،تیل کی قیمتوں میں اضافہ
رپورٹ کے مطابق ملک میں پانچ سال سے کم عمر 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں، ستائیس لاکھ 10 ہزار سے زائد بچے ایکیوٹ غذائی قلت میں مبتلا ہیں،دو لاکھ 32 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین بھی شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکساتان میں 14 لاکھ سے زائد افراد ہنگامی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں،پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں شامل، ہے ،دو ہزار پچاس تک موسمیاتی نقصانات پاکستان کی جی ڈی پی کا 4.5 سے 9 فیصد تک متاثر کر سکتے ہیں۔رپورٹ میں بڑھتی مہنگائی، غربت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نقد امدادی پروگراموں ناگزیر قرار دیا گیا ۔
آئی ایم ایف نے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی جس میں پاکستان میں رواں مالی سال بھی معاشی ترقی کی رفتار ہدف سے کم رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔












