واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت کے صدر سمیت اعلیٰ عہدیداروں پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔ عالمی فوجداری عدالت نے امریکی اقدام کو عدالت کی آزادی پر کھلا حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی حکام کو قانون پر عمل کرنے کی پاداش میں دھمکایا جائے تو اس سے پورا عالمی قانونی نظام خطرے میں پڑجاتا ہے۔ جاپان اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی امریکی پابندیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
امریکی حکومت اور عالمی فوجداری عدالت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔امریکی محکمہ خارجہ نے عالمی فوجداری عدالت کی صدر توموکو اکانے اور عدالت کے سینئر مقدماتی وکیل عبداللہ سیے پر پابندیاں عائد کردیں۔
جاپانی شہری توموکو اکانے اور سینیگال سے تعلق رکھنے والے عبداللہ سیے کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کردیئے گئے ہیں۔امریکی مالیاتی نظام سے ان کے کسی بھی قسم کے مالی روابط بھی متاثر ہوں گے۔
عالمی فوجداری عدالت کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اب عدالت کے 18 میں سے 9 ججوں، دونوں نائب استغاثہ سربراہوں، سابق چیف پراسیکیوٹر اور استغاثہ کے دفتر کے ایک اور اہلکار پر پابندیاں عائد کرچکی ہے۔امریکا کا مؤقف ہے کہ عالمی فوجداری عدالت اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کررہی ہے اور ایسے ممالک کے فوجی اور سیاسی حکام کے خلاف تحقیقات اور مقدمات چلا رہی ہے جو عدالت کے رکن نہیں۔ان میں امریکا اور اسرائیل بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لیبیا میں روس کے 6ایئربیسز پر جنگی طیارے، ڈرونز اور دفاعی نظام تعینات
عالمی فوجداری عدالت نے امریکی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت کی آزادی پر کھلا حملہ ہے۔عدالت کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی حکام کو قانون پر عمل کرنے کی وجہ سے دھمکایا جائے تو خطرہ صرف عدالت کی آزادی کو نہیں بلکہ پورے عالمی قانونی نظام کو لاحق ہوجاتا ہے۔عالمی فوجداری عدالت نے واضح کیا کہ وہ دنیا بھر میں ہونے والے سنگین جرائم کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے اپنے اختیار اور ذمہ داری کو آزادی اور غیر جانب داری کے ساتھ جاری رکھے گی۔











