ماسکو (پاک ترک نیوز) روس نے شمالی افریقی ملک لیبیا میں اپنے فوجی اثر و رسوخ کو مزید وسعت دینا شروع کر دیا ہے، جہاں ماسکو کی سرگرمیاں 6 اہم فضائی اڈوں تک پھیل گئی ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ رپورٹس کے مطابق روسی فوجی موجودگی میں اضافے کے ساتھ ان اڈوں پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی اور دفاعی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
روسی سرگرمیوں کا مرکز جفرہ، الخادم، غردابیہ، براک الشاطی، ماتن السرہ اور تمنہنت کے فضائی اڈے ہیں، جہاں جدید فوجی سازوسامان اور اضافی اہلکاروں کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس نے ان اڈوں پر مگ 29 جنگی طیارے، ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام تعینات کیے ہیں، جبکہ رن ویز، طیاروں کے ہینگرز، گوداموں اور فوجی رہائشی سہولیات کی تعمیر و بحالی بھی تیزی سے جاری ہے۔
الخادم ایئربیس پر گزشتہ ایک سال کے دوران 3 نئے ہینگرز اور ممکنہ رہائشی تنصیبات تعمیر کی گئیں، جبکہ 2026 میں وہاں مواصلاتی ٹاور اور بیرکس بھی بنائے گئے ہیں۔
اسی طرح براک الشاطی ایئربیس پر روسی اہلکاروں کی تعداد چند ماہ کے دوران تقریباً 300 سے بڑھ کر 450 تک پہنچ گئی ہے، جس سے خطے میں روسی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ماتن السرہ ایئربیس کی جغرافیائی اہمیت بھی روس کے لیے غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے۔ یہ فضائی اڈہ چاڈ اور سوڈان کی سرحدوں کے قریب واقع ہے، جس کے باعث اسے افریقہ کے ساحل خطے میں روسی کارروائیوں کے لیے ممکنہ اسٹریٹجک مرکز سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق لیبیا کا محل وقوع روس کو شمالی افریقہ سے ساحل کے مختلف ممالک تک اسلحہ، فوجی سازوسامان اور اہلکاروں کی نقل و حرکت کے لیے اہم سہولت فراہم کر سکتا ہے۔
روس کی جانب سے لیبیا میں فوجی تنصیبات کو مضبوط بنانے کی سرگرمیاں ایسے وقت میں تیز ہوئی ہیں جب ماسکو افریقہ میں اپنے سیاسی، اقتصادی اور دفاعی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی بی 21 ریڈر اسٹیلتھ بمبار کی پیداوار میں مزید تیزی کی تیاری
امریکی حکام بھی روسی فوجی سرگرمیوں اور افریقہ میں اس کے اسلحہ نیٹ ورک پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق لیبیا کے مختلف فضائی اڈوں پر روسی سرگرمیاں وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد شمالی افریقہ اور ساحل کے خطے میں ماسکو کا اثر بڑھانا ہے۔












