اسلام آباد (پاک ترک نیوز )ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہونے کے باوجود پنجاب، خصوصاً لاہور اور گردونواح میں رات گئے اور صبح سویرے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔رپورٹ کے مطابق شہریوں کو رات 9 بجے سے صبح 4 بجے کے درمیان دو سے چار گھنٹے تک بجلی کی بندش کا سامنا ہے، جبکہ دن کے بیشتر حصے میں بجلی کی فراہمی معمول کے مطابق رہتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت اضافی موجود ہے تو لوڈشیڈنگ کیوں کی جا رہی ہے؟اس کی بڑی وجہ بجلی کے ترسیلی اور تقسیمی نظام کی کمزوریاں قرار دی جا رہی ہیں۔گزشتہ کئی برسوں میں حکومتوں، خصوصاً مسلم لیگ ن کی حکومتوں نے بجلی کی پیداوار بڑھانے پر تو توجہ دی، تاہم بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو اسی رفتار سے اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔
ملک میں اضافی بجلی پیدا کرنے والے کئی پلانٹس جنوبی علاقوں میں واقع ہیں، جبکہ بجلی کی طلب شمالی علاقوں، خصوصاً پنجاب میں زیادہ ہے۔شمال میں طلب پوری کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس پر انحصار کیا جاتا ہے، تاہم اس وقت مناسب قیمت پر ایل این جی کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔دوسری جانب شدید بارشوں کے دوران پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث پن بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ شدید حبس اور گرمی نے ایئرکنڈیشنرز کے استعمال میں اضافہ کرکے بجلی کی طلب مزید بڑھا دی ہے۔دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ دن کے وقت ملک میں بڑے پیمانے پر سولرائزیشن کے باعث گرڈ پر بجلی کی طلب نسبتاً کم رہتی ہے، لیکن سورج غروب ہوتے ہی صورتحال تبدیل ہوجاتی ہے۔رات کے وقت صارفین دوبارہ تقریباً مکمل طور پر قومی گرڈ پر انحصار کرتے ہیں اور ایئرکنڈیشننگ کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث طلب اور رسد کا فرق پیدا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئیسکو کی نجکاری، سرمایہ کاروں کو بولی کے لیے مزید وقت مل گیا
پاکستان کو قطر سے طویل المدتی معاہدوں کے تحت ملنے والی ایل این جی اس طلب کے خلا کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی تھی، تاہم موجودہ حالات میں اس سپلائی میں رکاوٹ نے بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔












