Jamaat-e-Islami presents 3 demands in talks with government
لاہور(پاک ترک نیوز )لاہور میں ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران حکومتی وفد جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ پہنچا، جہاں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس کے خاتمے، آئی پی پیز کے معاہدے ختم کرنے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے مطالبات پیش کیے گئے۔
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے حکومتی کمیٹی کے سامنے مطالبات رکھتے ہوئے کہا کہ عوام کو مہنگائی اور مہنگی بجلی سے نجات دلانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کا حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کا فیصلہ،لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار
حکومتی کمیٹی نے جماعت اسلامی کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی حالات کے تناظر میں طے کرنا ہوں گی، تاہم حکومت کی پہلی ترجیح عوام کو ریلیف دینا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی میں کمی سے متعلق جماعت اسلامی کی تجاویز سن لی ہیں، حکومت ان پر غور کرے گی اور عام آدمی کو مسلسل ریلیف دینے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت بھی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی چاہتی ہے۔ جنگ کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور عام آدمی پر بوجھ پڑا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پاس مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے سے متعلق تجاویز ہیں، جن پر پیٹرولیم حکام جماعت اسلامی کی ٹیم کے ساتھ سنجیدگی سے بات کریں گے۔
جماعت اسلامی نے دھرنے ختم کرنے کی حکومتی تجویز مسترد کر دی ،حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے دھرنے بھی جاری رہیں گے اور حکومت سے بات چیت بھی چلتی رہے گی،حکومت سے بات چیت کرنے کے لیے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی ہے












