اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان نے سی پیک کے دوسرے مرحلے میں برآمدات پر مبنی معاشی ترقی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ صنعتی ترقی، زراعت کی جدید کاری، ٹیکنالوجی اور کاروباری روابط کو آئندہ مرحلے کے اہم محرکات قرار دیا گیا ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے مواقع کو حقیقی معاشی سرگرمی میں تبدیل کرنے کے لیے نجی شعبے کو مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ حکومت سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گی۔
سی پیک کے دوسرے مرحلے کی ترجیحات 2025 سے 2029 کے عملی منصوبے کا حصہ ہیں، جسے اگست 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے دوران حتمی شکل دی گئی تھی۔ منصوبے کے پہلے سال کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کو طے شدہ ترجیحات پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترجیحات کا مرکز سیاسی محاذ آرائی کے بجائے ترقی، برآمدات اور سرمایہ کاری ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل ادوار میں پاکستان اور چین کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوا اور توانائی کے شدید بحران کے دوران چین نے اہم سرمایہ کاری فراہم کی۔وفاقی وزیر کے مطابق سی پیک کے پہلے مرحلے میں چین سے تقریباً 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی اور پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 8 ہزار میگاواٹ کا اضافہ ہوا، جس سے توانائی کے بحران پر قابو پانے اور توانائی کے تحفظ میں مدد ملی۔
تھر کے کوئلے کی ترقی اور فائبر آپٹک نیٹ ورک بھی سی پیک کے پہلے مرحلے کی اہم کامیابیوں میں شامل رہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں کاروبار سے کاروبار تعاون، صنعتی ترقی، زراعت کی جدید کاری، معدنیات، انسانی وسائل اور ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔سی پیک کے دوسرے مرحلے کی ترجیحات اڑان پاکستان کے پانچ اہم شعبوں سے ہم آہنگ کی گئی ہیں، جن میں ترقی، روزگار و معاش، جدت، سبز معیشت اور عالمی روابط شامل ہیں۔ترقی کے شعبے کے تحت صنعتی اور زرعی صلاحیت میں اضافہ کرکے برآمدات بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، جبکہ روزگار و معاش کے شعبے میں سماجی ترقی اور کم ترقی یافتہ علاقوں کی بہتری کو ترجیح دی جائے گی۔جدت کے شعبے کے تحت پاکستان کے اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دینے اور نوجوانوں کو جدید فنی مہارتیں فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ احسن اقبال نے نوجوان آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا معاشی اثاثہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: افریقی ملک چاڈ میں چینی ساختہ جنگی ڈرونز کی آمد
دوسری جانب سبز معیشت کے تحت موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت، پانی اور غذائی تحفظ اور زرعی شعبے کی جدید کاری پر توجہ دی جائے گی۔حکومت نے ایک ہزار زرعی ماہرین کو جدید زرعی ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے چین بھیجنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنا اور پاکستان میں جدید زرعی انقلاب کی بنیاد رکھنا ہے۔












