بیجنگ ( پاک ترک نیوز) دنیا کی سب سے بڑی بجلی کی منڈی چین میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی مجموعی تنصیب پہلی بار کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی تنصیب سے زیادہ ہوگئی ہے۔چین میں شمسی توانائی کی مجموعی تنصیب ایک ہزار 288 گیگا واٹ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی تنصیب ایک ہزار 285 گیگا واٹ ہے۔ یوں شمسی توانائی ملک میں بجلی پیدا کرنے کی سب سے بڑی نصب شدہ صلاحیت بن گئی ہے، جبکہ کوئلہ دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق چین کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت میں شمسی توانائی کا حصہ 31.5 فیصد ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس کا یہ مطلب نہیں کہ چین اس وقت شمسی توانائی سے کوئلے کے مقابلے میں زیادہ بجلی پیدا کررہا ہے۔
شمسی توانائی سورج کی روشنی پر منحصر ہے، اس لیے اس کے بجلی پیدا کرنے کی حقیقی شرح نصب شدہ صلاحیت کے مقابلے میں کم رہتی ہے۔ اس کے برعکس کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر نسبتاً زیادہ مسلسل بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے چین میں بجلی کی مجموعی پیداوار کے لحاظ سے کوئلہ اب بھی شمسی توانائی سے آگے ہے۔2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی بجلی پیداوار میں ہوا اور شمسی توانائی کا مشترکہ حصہ 24.6 فیصد رہا، جبکہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار کا حصہ 49.7 فیصد تھا۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چین میں بجلی کی مجموعی پیداوار میں کوئلے کا حصہ 50 فیصد سے کم ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا سی پیک کے دوسرے مرحلے میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے کا فیصلہ
چین میں شمسی توانائی کی تنصیب گزشتہ کئی برسوں سے انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کے منصوبے قائم کیے جارہے ہیں، جس کے باعث قابل تجدید توانائی کی مجموعی صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔رواں سال شمسی توانائی کے منصوبوں کی تنصیب کی رفتار گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ کم ہوئی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ حکومت کی جانب سے شمسی بجلی پیدا کرنے والوں کو یقینی قیمت فراہم کرنے والی پالیسی کا خاتمہ ہے، جس کے بعد بجلی پیدا کرنے والوں کو براہ راست منڈی میں مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔












