
از: سہیل شہریار
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پرنئی جنگ مسلط کئے جانے کے ساتھ پورے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں عرب، اسلامی سیاسی و عسکری اتحاد کے قیام کی ضرور ت گزیر دکھائی دے رہی ہے۔
عرب، اسلامی سیاسی و عسکری اتحاد کا تصور تو نیا نہیں ہے ۔1970کی دہائی میں شاہ فیصل شہید اور ذوالفقار علی بھٹو شہید کے ہمراہ اسلامی دنیا کے قائدین کی جانب سے اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کی تخلیق کا محرک یہی خیال تھا۔ حالیہ برسوں میں باضابطہ طور پر سب سے پہلے ترک صدر رجب طیب اردوان نے 2024میں اسلامی نیٹو کا تصور پیش کرتے ہوئے مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف فوجی اور سیاسی اتحاد قائم کریں۔انکے بعد مصری قیادت نے بھی اسلامی ملکوں کی ایک مشترکہ دفاعی چھتری کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ جس کا مقصد اسرائیل کی جانب سے ایک کے بعد دوسرے اسلامی ملک پر حملے کو روکنا ہے۔بعد ازاں گذشتہ برس ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تزویراتی دفاعی معاہدے کے تناظر میںپاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نےبھی اسلامی ملکوں کے نیٹو کی طرز کے فوجی اتحاد کی بات کی تھی۔
اسلامی دنیا کے دفاعی تجزیہ کار اس امر پر یکجا دکھائی دیتے ہیں کہ امریکہ نے اسرائیل کی فوجی صلاحیت کو اس سطح تک بڑھا دیا ہے کہ اب اس خطرے سے نمٹنے کےلئے مشرق وسطیٰ کو وسیع تر اسلامی فوجی اتحاد کے لئے آگے آنا پڑے گا۔ بصورت دیگر عراق، شام اور اب ایران کے بعد کسی نہ کسی حیلے بہانے سے ایک کے بعدایک اسلامی ملک امریکہ اور خطے میں اسکے کرائے کے قاتل اسرائیل کی فوجی کاروائی کا ہدف بنتے رہیں گے۔
یہ بات نوشتہ دیوار ہے کہ ایران کے لئے اکیلے اور صرف میزائلز کی مدد سے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی طاقت کا مقابلہ کرناممکن نہیں۔ اگرچہ وہ اسرائیل کے اندر اور خطے میں امریکہ کےفوجی اثاثوں اور مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے۔مگر امریکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہواپنی تقاریر میں واضح کر چکے ہیں کہ اس مشترکہ فوجی آپریشن کا مقصد ایران کے موجودہ اسلامی تشخص اورنظام حکومت کو تبدیل کرنا ہے ۔جو امریکہ اور اسرائیل کے لئے خطرہ ہے۔ اور انہوں نے ایران مین ہونے والے حالیہ خونی مظاہروں میں اپنے اسی ہدف کے حصول میں ناکامی کے بعد اب ایک بار پھر ایرانی عوام کو موجودہ قیادت کو ہٹا کر ملک کے معاملات اور مستقبل اپنے ہاتھ میںلینے کے لئے ابھارا ہے او ر ساتھ ہی اسکے لئے اپنی مدد اور حمایت کااعادہ کیا ہے۔
عرب اور اسلامی فوجی اتحاد خصوصاً اسرائیل کی ایران کے ساتھ جون 2025میں لڑی گئی 12 روزہ جنگ کے بعد سےترکیہ کی قیادت کی جانب سے ناگزیر قرار دیا جارہا ہے۔ جس میں ترکیہ ۔مصر۔ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین مشاورت کی خبریں بھی اسلامی دنیا کے میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں۔ اور ذرائع ابلاغ اس امر کی تائید کرتے رہے ہیں کہ گفت وشنیدایک ایسے اتحاد کی تشکیل پر ہو رہی ہےجو نیٹو کی طرح کا اتحاد تو نہیں ہو گا مگراسکے بنیادی مقاصد کم بیش وہی ہوں گے۔
اب تازہ ایران بمقابلہ امریکہ و اسرائیل جنگ میں ایران کی جانب سے تہران اور دیگر شہروں میں اسرائیلی بمباری کے بعد میزائل حملوں کی صورت میں جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سمیت دیگر شہروں کو نشانہ بنانے کے علاوہ عرب ملکوں میں امریکی اڈوں کو بھی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔یہ جنگ جلد رکتی نظر نہیں آ رہی ۔
ٹرمپ نے اپنے عزائم واضح کر دئیے ہیں ۔مگر شاید وہ ایرانی قوم کی نفسیات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں جو وطنیت کی بات آئے تو باقی سب باتوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ ساتھ ہی ایران مذہبی حوالے سے امام حاضر کی پیرو کاردنیا کی واحد شیعہ اکثریتی ریاست ہونے کی بنا پر دنیا بھر کے شیعوں کی مذہبی وابستگی کا مرکز ہے۔جن کی بڑی تعداد مشرق وسطیٰ کے مختلف ملکوں میں آباد ہے۔ اندیشہ ہے کہ جنگ کی یہ آگ جلد نہ بجھائی گئی تو پورا مشرق وسطیٰ اسکی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔












