واشنگٹن(پاک ترک نیوز) امریکا اور اسرائیل ایران میں توانائی سے متعلق تنصیبات پر اب تک کی وسیع ترین بمباری مہمات میں سے ایک شروع کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ یہ حملےرواں ہفتے کے آخر یا آئندہ ہفتے کے آغاز میں شروع کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ اہداف میں بجلی گھر، آئل ریفائنریز اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق دیگر تنصیبات شامل ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کشیدگی میں ایک بڑا اضافہ ہوگا۔ کیونکہ کارروائیوں کا دائرہ فوجی اہداف سے بڑھ کر ایسی تنصیبات تک پہنچ جائے گا۔ جو ایرانی معیشت اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال کارروائی شروع کرنے کا حتمی حکم جاری نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق اسرائیل کو ان منصوبوں سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور وہ واشنگٹن کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی میں ہے۔ جبکہ اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔تاہم یہ مشترکہ کارروائی کی جاتی ہے تو امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے دوران اسرائیلی کارروائیوں کے تعطل کے بعد یہ دوبارہ فوجی کارروائیوں کا آغاز ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ اگر کارروائی کی جائے تو اسے پیر کی صبح مالیاتی منڈیاں کھلنے سے پہلے مکمل کر لیا جائے۔ کیونکہ ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے امریکی معیشت اور عالمی مالیاتی منڈیوں پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔ تاہم کارروائی کے حتمی وقت یا اس کی مدت کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میںذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے پر جمعہ کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے امریکی کابینہ کے اجلاس میں غور کیا گیا۔ اس موقعہ پر وائٹ ہاؤس کے بعض معاونین جو سیاسی نتائج پر توجہ دے رہے ہیں نے اس آپشن کی سخت مخالفت کی ہے۔ کیونکہ انہیں توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویش ہے۔
وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی ہے کہ کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے دوران ٹرمپ نے ایران کوبھرپور طاقت سے نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ کا مقصد کامیابی حاصل کرنا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ امریکی حکام نے تہران کی بجلی منقطع کرنے کے امکان پر بھی غور کیا۔ لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔البتہ امریکی وزارتِ دفاع نے کہا کہ صدر کی ہدایات جاری ہوتے ہی ان پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم ممکنہ اہداف پر پیشگی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی خبروں پر ایران نے اپنا پہلا ردِعمل دیتے ہوئے انہیں غیر ذمہ دارانہ قدم قرار دیا ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی توانائی سے متعلق اہداف پر حملے کی اطلاعات انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہیں۔عہدیدار کے مطابق ایران نے کسی بھی ممکنہ امریکی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کر رکھا ہے، جس میں خطے میں موجود امریکا اور اسرائیل کے اہم اور حساس بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ اہداف کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔












