تہران ( پاک ترک نیوز) ایران نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور ایسی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایران کی خاتم الانبیا بریگیڈ کے اعلیٰ کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ "دیوانگی” ہوگا اور جارحیت کرکے بھاگنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غلط اندازوں پر مبنی کسی بھی کارروائی کے نتائج حملہ آوروں کو بھگتنا پڑیں گے۔
میجر جنرل علی عبداللہی نے مزید کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو اب اندازہ ہو چکا ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج کے پاس نہ صرف مکمل صلاحیت موجود ہے بلکہ ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بھی تیار ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی کمانڈر نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا اردن میں امریکہ کے 3 ایف-35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ،امریکہ کا انکار
دوسری جانب امریکی میڈیا، بشمول ایگزیوس اور وال اسٹریٹ جرنل، نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف عسکری آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ممکنہ کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔












