تہران ( پاک ترک نیوز) پانچ ماہ سے جاری امریکی جنگ، سخت اقتصادی پابندیوں اور مسلسل دباؤ کے باوجود ایران کی معیشت اب تک مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی، تاہم عام شہری شدید مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران نے کئی دہائیوں سے پابندیوں کے ماحول میں خود انحصاری، متنوع مقامی معیشت، سرحدی تجارت، غیر رسمی لیبر مارکیٹ اور متبادل تیل برآمدی نیٹ ورکس کے ذریعے اپنی معیشت کو کسی حد تک فعال رکھا ہے۔ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں نے بھی تیل پر مکمل انحصار کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
ماہرِ معاشیات ہادی کہل زادہ کے مطابق معاشی تباہی اس وقت ہوتی ہے جب ریاست ملازمین کو تنخواہیں دینے اور بنیادی خدمات فراہم کرنے کے قابل نہ رہے، اور ایران ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچا۔ ان کے مطابق جنگ، پابندیاں اور ناکہ بندی نے شدید نقصان ضرور پہنچایا ہے، مگر فوری طور پر مکمل معاشی انہدام کے آثار نظر نہیں آتے۔
رپورٹ کے مطابق ایران میں مہنگائی تقریباً 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ گوشت، انڈے، خوردنی تیل اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتیں گزشتہ ایک سال میں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ ایرانی کرنسی کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کے باعث درآمدی اشیا بھی عام شہریوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
حکومت مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے نقد امداد، سبسڈی اور الیکٹرانک راشن کوپن فراہم کر رہی ہے، تاہم کم از کم ماہانہ اجرت 100 ڈالر سے بھی کم رہ گئی ہے، جس سے لاکھوں خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اللہ کی مدد سے آج جارح کو سزا دی جائے گی‘ پاسداران انقلاب
ادھر ایرانی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ پابندیوں کے دوران تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی 11 ارب ڈالر سے زائد رقم بعض نامزد افراد واپس لانے میں ناکام رہے، جبکہ 1.6 ارب ڈالر کے غلط استعمال کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ مزید برآں، 20 ہزار سے زائد برآمد کنندگان تقریباً 94 ارب یورو کی برآمدی آمدن ملک واپس نہیں لا سکے۔
جرمنی کی فلپس یونیورسٹی ماربرگ کے ماہرِ معاشیات محمد رضا فرزانگان کے مطابق ایران کی معیشت کے لیے سب سے بڑا اندرونی خطرہ بدعنوانی، کمزور ادارے اور سیاسی بنیادوں پر معاشی فیصلے ہیں، جنہوں نے نجی شعبے اور سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کا متوسط طبقہ تیزی سے سکڑ رہا ہے اور اب تقریباً 70 فیصد آبادی غربت یا غربت کے خطرے سے دوچار ہے۔ لاکھوں خاندان خوراک، علاج، تعلیم اور رہائش جیسے بنیادی اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین، روس اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات ایران کو وقتی ریلیف تو دے سکتے ہیں، لیکن پائیدار معاشی بحالی صرف اس صورت میں ممکن ہوگی جب خطے میں کشیدگی کم ہو اور سفارتی سطح پر تنازعات کا حل نکالا جائے۔ بغیر سفارتی پیش رفت کے ایران کی معیشت زندہ تو رہ سکتی ہے، مگر حقیقی بحالی کے امکانات محدود رہیں گے۔












