اسلام آباد(پاک ترک نیوز )وفاقی کابینہ نے ایسے افراد پر فوری پابندیاں عائد کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے جو اپنی ظاہر کردہ آمدن یا مالی وسائل سے زیادہ مالیت کی گاڑیاں، جائیدادیں، شیئرز خریدنے یا بڑی نقد رقم نکالنے کے اہل نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ نے نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری کے لیے 12 جون کو ہونے والے خصوصی کابینہ اجلاس میں یہ سمری پیش کی تھی، تاہم کابینہ ڈویژن نے 17 جولائی کو جاری فیصلے میں بتایا کہ وفاقی کابینہ نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 114C کے تحت بعض معاشی لین دین پر پابندیاں نافذ کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔
اس قانون کے تحت حکومت کی منظوری کے بعد ایسے افراد پر پابندی عائد ہونا تھی جو اپنے ٹیکس گوشواروں میں اتنے مالی وسائل ظاہر نہ کر سکیں کہ وہ مہنگی جائیداد، گاڑی یا دیگر سرمایہ کاری خریدنے کے اہل ہوں۔
قانون کے مطابق نااہل قرار دیے گئے افراد 70 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی گاڑی، 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد، 5 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے شیئرز نہیں خرید سکتے تھے، جبکہ وہ اپنے تمام بینک اکاؤنٹس سے 10 کروڑ روپے سے زائد نقد رقم بھی نہیں نکال سکتے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ پابندیاں یکم جولائی 2026 سے نافذ کرنے کا عندیہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی دیا تھا، تاکہ جائیداد پر ودہولڈنگ ٹیکس میں دی جانے والی رعایت سے صرف وہی افراد فائدہ اٹھا سکیں جن کے مالی وسائل ٹیکس ریکارڈ میں موجود ہوں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کی جانب سے سمری مسترد کیے جانے کے بعد معاملہ دوبارہ وزیراعظم آفس کو بھیج دیا گیا ہے، جہاں سے قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد نئی سمری کابینہ سے بذریعہ سرکولیشن منظور کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے 2025 میں اس قانون پر عمل درآمد مؤخر کرتے ہوئے ایف بی آر کو ہدایت کی تھی کہ پابندیوں کے نفاذ سے قبل ایسا مؤثر ڈیجیٹل نظام تیار کیا جائے جو متعلقہ لین دین کو خودکار طریقے سے روک سکے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق جائیداد کی خرید و فروخت کی نگرانی کے لیے آن لائن نظام تیار کر لیا گیا ہے، تاہم شیئرز میں سرمایہ کاری کو مؤثر انداز میں روکنے کے لیے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
قانون میں بعد ازاں متعدد نرمیوں کا بھی اضافہ کیا گیا، جن میں قریبی اہلِ خانہ کے اثاثوں کو مالی وسائل کا حصہ تسلیم کرنا، سونا، غیر ملکی کرنسی، بانڈز اور دیگر اثاثوں کو بھی "کافی وسائل” کی تعریف میں شامل کرنا، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور لسٹڈ کمپنیوں کو اضافی معلومات فراہم کرنے کی شرط سے مستثنیٰ قرار دینا شامل ہے۔ اس کے باوجود حکومت تاحال اس قانون کو عملی طور پر نافذ نہیں کر سکی۔







