لندن (پاک ترک نیوز )یورپی یونین کے 22 رکن ممالک نے مشترکہ خط میں سیوٹا بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور یونین کی بیرونی سرحدوں کو مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ اقدام تقریباً 60 ہزار تارکینِ وطن کے مراکش سے سیوٹا میں داخل ہونے کے بعد سامنے آیا۔
دوسری جانب اسپین نے اس بحران پر بعض یورپی ممالک کے ردعمل کو "خود غرض، تقسیم پیدا کرنے والا اور غیر قانونی” قرار دیا۔ اٹلی نے اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کے تحت سرحدی نقل و حرکت عارضی طور پر معطل کر دی، جس کی فن لینڈ اور ڈنمارک نے بھی حمایت کی۔
حکام کے مطابق 30 جولائی کو سیوٹا پہنچنے والے تقریباً تمام تارکینِ وطن واپس جا چکے ہیں، جبکہ اس دوران ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 67 ہو گئی ہے۔
22 رکن ممالک کے مشترکہ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ غیر قانونی داخلے کو ممکن سمجھنے کا تاثر مزید غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ افزائی کرے گا، مشترکہ یورپی امیگریشن پالیسی پر اعتماد کو متاثر کرے گا اور اس کے اثرات تمام رکن ممالک پر پڑیں گے۔
اس خط پر نیدرلینڈز، فن لینڈ اور بیلجیئم سمیت 22 ممالک کے رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں، جبکہ اسے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لائین اور آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن کو ارسال کیا گیا ہے، کیونکہ اس وقت یورپی یونین کی کونسل کی صدارت آئرلینڈ کے پاس ہے۔
ادھر ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی کمیشن کی صدر کے نام اپنے خط میں بعض یورپی حکومتوں کے طرزِ عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپانوی حکومت نے 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں سرحد پر مکمل کنٹرول بحال کر لیا اور تارکینِ وطن کی یورپ کے دیگر حصوں کی جانب غیر مجاز نقل و حرکت کو روک دی






