واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکا اور بھارت کے درمیان ایک اہم تجارتی سمجھوتہ طے پا گیا ہے جس کے بعد واشنگٹن نے بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
اس پیش رفت کو عالمی توانائی اور تجارتی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں بتایا کہ پیر کی صبح بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تجارت، توانائی کے معاملات اور یوکرین جنگ سمیت کئی حساس عالمی امور زیرِ بحث آئے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق بھارتی قیادت نے روس سے تیل کی خریداری ختم کرنے اور امریکا و وینیزویلا سے توانائی درآمدات بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی، جس کے بعد امریکا نے فوری طور پر بھارت کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر اصولی اتفاق کر لیا۔
اس معاہدے کے تحت امریکا نے بھارتی مصنوعات پر ریسپروکل ٹیرف 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ بھارت نے امریکی مصنوعات پر عائد ٹیرف اور دیگر غیر تجارتی رکاوٹیں بتدریج ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں بھارت امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی اور صنعتی مصنوعات کی خریداری میں نمایاں اضافہ کرے گا، جس کا مجموعی حجم 500 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر دباؤ بڑھا رہا ہے اور عالمی منڈی میں تیل و تجارت کے نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس امریکا نے روسی تیل کی درآمدات کے باعث بھارت پر اضافی ٹیرف عائد کیے تھے، جو مجموعی طور پر 50 فیصد تک جا پہنچے تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ معاہدے سے امریکا اور بھارت کے معاشی و اسٹریٹجک تعلقات کو نئی سمت مل سکتی ہے، تاہم اس پر عملی عملدرآمد، شرائط اور حتمی ٹائم لائن سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔
نئی دہلی کی جانب سے اس پیش رفت پر اب تک کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا گیا، جبکہ عالمی سطح پر اس معاہدے کے ممکنہ اثرات پر بحث جاری ہے۔












