تہران: (پاک ترک نیوز)ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایک سخت لہجے میں کہا ہے کہ اصل طاقت جنگی بحری بیڑوں میں نہیں بلکہ اُن ہتھیاروں میں ہے جو انہیں سمندر کی تہہ تک پہنچا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی فوجی برتری اُس وقت بے معنی ہوجاتی ہے جب اس کے مقابلے میں مؤثر دفاعی صلاحیت موجود ہو۔
انہوں نے امریکی قیادت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی طاقت کو ناقابلِ شکست سمجھنا درست نہیں، کیونکہ حالات پل بھر میں بدل سکتے ہیں۔ ان کے بقول، ایران دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے جھکنے والا نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات اور بحری موجودگی بڑھانے کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی توجہ ایک بار پھر خلیج کی صورتحال پر مرکوز کر دی ہے۔دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکم دیا گیا تو آبنائے ہرمز میں سرگرمیوں کو محدود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
حالیہ بحری مشقوں کے دوران چند گھنٹوں کے لیے اس اہم گزرگاہ میں آمدورفت روکی گئی، جسے حکام نے "اسمارٹ کنٹرول” کی مشق قرار دیا۔
مشق کے دوسرے مرحلے میں تیز رفتار میزائل بردار کشتیوں اور فوری ردعمل دینے والے یونٹس نے حصہ لیا۔ ساحلی علاقوں اور جزائر سے داغے گئے میزائلوں کے ذریعے فرضی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
عسکری ماہرین کے مطابق کارروائیاں منصوبہ بندی کے مطابق اور غیر معمولی درستگی کے ساتھ مکمل کی گئیں۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی رسد کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوسکتے ہیں۔
حالیہ بیانات اور فوجی سرگرمیوں نے خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ نتائج کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔












