تل ابیب: (پاک ترک نیوز)امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی سمجھے جانے والے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق امریکی فیصلہ "مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں” میں متوقع ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر موجودہ کشیدگی کے دوران ایرانی سپریم لیڈر اقتدار میں برقرار رہتے ہیں تو یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی "اسٹریٹجک فتح” ہوگی۔
لنڈسےگراہم نے یہ بیان اسرائیل کے دورے کے دوران دیا، جو جنیوا میں منگل کو ہونے والے امریکہ۔ایران جوہری مذاکرات کے دوسرے دور سے ایک روز قبل سامنے آیا۔
تل ابیب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی عوام کو یہ یقین دہانی کرانے آئے ہیں کہ ایران کے معاملے پر واشنگٹن اور یروشلم کے درمیان "کوئی اختلاف نہیں”۔
انہوں نے کہا:”اس وقت دو راستے زیرِ غور ہیں۔ ایک سفارتی راستہ ہے، جس کے ذریعے ہم اس نظام کا خاتمہ سفارتی انداز میں کر کے اپنی قومی سلامتی کے مفادات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
دوسرا راستہ فوجی آپشن ہے۔”گراہم نے، جنہوں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی ملاقات کی، کہا کہ ان کے خیال میں ٹرمپ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کون سا راستہ زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔”حتمی بات یہ ہے کہ فیصلہ سازی کے حوالے سے ہم مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں کی بات کر رہے ہیں۔”
گراہم نے دعویٰ کیا کہ 1979 ء کے بعد سے ایرانی قیادت اس وقت اپنی کمزور ترین حالت میں ہے۔ معیشت تباہ حال ہے، فوجی طاقت کمزور ہو چکی ہے، اور لوگ سڑکوں پر موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نظام کی تبدیلی کا خطرہ حقیقی ہے، مگر وہ یہ خطرہ مول لینے کو تیار ہیں۔اگرچہ گراہم نے زور دیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایران کے معاملے پر مکمل ہم آہنگی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں ملاقات کے بعد ٹرمپ کے بیان سے کچھ اختلافی اشارے ملے تھے۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ فوجی اقدام سے قبل جاری جوہری مذاکرات کو موقع دیا جائے۔بعد ازاں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی "بہترین چیز” ہو سکتی ہے، جو امریکی نائب صدر کے اس بیان سے مختلف تھا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کا مقصد ایرانی حکومت کا خاتمہ نہیں بلکہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کو روکنا ہے۔












