واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات میں "بالواسطہ” طور پر شامل ہوں گے۔ یہ مذاکرات منگل کو جنیوا میں شروع ہونے والے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا،”میں ان مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل رہوں گا، اور یہ مذاکرات بہت اہم ہوں گے۔”
مذاکرات سے قبل خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی تعینات کر دیا ہے۔ امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو امریکی فوج ایران کے خلاف طویل فوجی مہم کے امکان کے لیے تیاری کر رہی ہے۔
معاہدے کے امکانات کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سخت مذاکرات چاہتا ہے، لیکن گزشتہ موسمِ گرما میں امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد اسے اپنے مؤقف کے نتائج کا اندازہ ہو چکا ہے۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اس بار ایرانی قیادت سنجیدہ ہے اور معاہدہ کرنے کی خواہشمند ہے۔انہوں نے کہا،”میرا نہیں خیال کہ وہ معاہدہ نہ کرنے کے نتائج بھگتنا چاہتے ہیں۔”
واضح رہے کہ جون میں امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں سے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔
واشنگٹن کا مطالبہ تھا کہ تہران اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی (Enrichment) مکمل طور پر ترک کرے، جسے امریکہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کی ممکنہ راہ سمجھتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی سول ڈیفنس تنظیم نے پیر کے روز ملک کے جنوبی علاقے میں واقع پارس اسپیشل اکنامک انرجی زون میں کیمیائی دفاع کی مشق کا انعقاد کیا، تاکہ توانائی کے اس اہم مرکز میں ممکنہ کیمیائی خطرات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنایا جا سکے۔












