تہران: (پاک ترک نیوز)ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو “بامعنی معاہدہ” کرنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دے دی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں امریکی دھمکیوں کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدہ صورتحال اور امریکی فوجی نقل و حرکت کے پیش نظر صدر ٹرمپ کے بیانات کو محض بیان بازی نہیں سمجھا جا سکتا۔
ایرانی سفیر کے مطابق تہران نہ تو کشیدگی چاہتا ہے اور نہ ہی جنگ کا آغاز کرے گا، تاہم اگر ایران پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود امریکی افواج کے تمام اڈے اور تنصیبات “جائز اہداف” سمجھے جائیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں منعقدہ بورڈ آف پیس کے پہلے باضابطہ اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس معاہدے کے لیے محدود وقت ہے۔
انہوں نے کہا، “ہمیں ایک حقیقی اور بامعنی معاہدہ چاہیے، ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔”بعد ازاں ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 دن کا وقت کافی ہونا چاہیے۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہعباس عراقچی نے جنیوا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین رہنما اصولوں پر وسیع اتفاق رائے تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس سے قبل عمان میں بھی مذاکرات کا ایک دور ہو چکا ہے۔
امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ گزشتہ برس اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ کارروائیوں نے خطے میں جنگ بندی کی راہ ہموار کی۔ تاہم ایران کی اعلیٰ قیادت نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکی جنگی جہاز یقیناً خطرناک ہتھیار ہے، مگر اس سے زیادہ خطرناک وہ قوت ہے جو اسے سمندر کی تہہ میں بھیج سکتی ہے۔
واضح رہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی گزشتہ برس کے اواخر سے بڑھ رہی ہے، جب ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظمنیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی دی تھی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور فوجی تیاریوں کا سلسلہ بیک وقت جاری ہے، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔












