واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان میڈیا رپورٹس پر سخت ردعمل دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایران پر ممکنہ حملے کے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنرل کین نے صدر ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ امریکا کو طویل تنازع میں الجھا سکتی ہے اور اس میں امریکی جانی نقصان کا بھی خدشہ ہے۔
تاہم ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے ان خبروں کو “100 فیصد غلط” قرار دیا اور کہا کہ جنرل کین کا ماننا ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو امریکا اسے “آسانی سے جیت سکتا ہے”۔
اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ ہفتے ہونے والی ایک میٹنگ میں جنرل کین نے بتایا کہ اہم اسلحے کی کمی اور خطے میں اتحادیوں کی محدود حمایت ایران کے ممکنہ جوابی حملے کو روکنے کی امریکی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور یوکرین کی مدد کے باعث امریکی میزائل دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے اسلحہ کے ذخائر بھی کم ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جنرل کین نے ایران کے خلاف کسی بھی بڑے آپریشن کے حجم، اس کی پیچیدگی اور امریکی جانی نقصان کے خدشات پر تشویش ظاہر کی۔
جنرل کین کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان کا کام سویلین قیادت کو مختلف عسکری آپشنز، ان کے اثرات اور خطرات سے آگاہ کرنا ہے۔
دوسری جانب نیوز ویب سائٹ ایکسِیوس نے رپورٹ کیا کہ کئی ہفتوں سے ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کو بریفنگ دینے والی واحد عسکری شخصیت جنرل کین ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی آپریشنز کے سربراہ بریڈ کوپر کو جنوری کے بعد کسی اہم ملاقات میں مدعو نہیں کیا گیا۔
ایکسِیوس کے مطابق وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کے خلاف آپریشن کے معاملے پر جنرل کین پُرجوش تھے، لیکن ایران کے حوالے سے وہ زیادہ محتاط نظر آتے ہیں کیونکہ اس میں امریکی ہلاکتوں اور طویل جنگ میں پھنسنے کا خطرہ زیادہ ہے۔












