تہران ( پاک ترک نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا، جبکہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایگزیوس اور وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائیوں پر غور شروع کر دیا ہے، جن میں ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا آپشن بھی شامل ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی ممکنہ کارروائی میں اسرائیل کی شمولیت کا امکان موجود ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات زیر غور ہیں۔
کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے اور اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے بھرپور فوجی حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اشتعال انگیزی کر رہا ہے، معاہدوں پر اعتماد کمزور پڑ چکا ہے اور تہران اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اس وقت انتہائی ابتر حالات سے گزر رہا ہے،ٹرمپ
جنگ بندی کی بحالی سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا صرف فتح چاہتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں سے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو پورا مشرقِ وسطیٰ تباہ ہو چکا ہوتا، اس لیے امریکا ایران کو ایسی صلاحیت حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر مزید سخت حملے کیے جائیں گے اور ایک وقت آئے گا جب ایران خود مزید کشیدگی برداشت نہ کر سکنے کا اعتراف کرے گا۔












