واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایسے تمام ممالک سے امریکہ آنے والی اشیا پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے جو ایران کے ساتھ کسی بھی نوعیت کی تجارتی سرگرمی میں ملوث ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران میں حکومت مخالف مظاہرے مسلسل تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور صورتحال تیزی سے سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ نیا ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ایران کے ساتھ کس سطح یا نوعیت کے کاروبار کو اس فیصلے کے دائرے میں لایا جائے گا۔ اس ابہام کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نے دفاعی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف غیر معمولی نوعیت کے فوجی اور خفیہ آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، جن میں روایتی فضائی کارروائیوں سے کہیں زیادہ سخت اقدامات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس متوقع ہے، جہاں ایران کے حوالے سے تازہ حکمتِ عملی پر غور ہوگا۔ ابھی یہ طے نہیں ہو سکا کہ صدر ٹرمپ خود اس اجلاس میں شریک ہوں گے یا نہیں، تاہم وہ ماضی میں متعدد بار یہ انتباہ دے چکے ہیں کہ اگر ایران میں مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے پر طاقت استعمال کی گئی تو امریکہ خاموش نہیں رہے گا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ صدر ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور تمام ممکنہ آپشنز زیرِ غور ہیں، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری صدر کی اولین ترجیح ہے، مگر اگر ضرورت پڑی تو سخت فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ترجمان کے مطابق ایرانی قیادت کی جانب سے عوامی بیانات اور امریکہ کو نجی سطح پر دیے گئے پیغامات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، اور صدر ان خفیہ پیغامات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں چین، ترکی، متحدہ عرب امارات، عراق اور بھارت جیسے اہم ممالک شامل ہیں، جس کے باعث اس نئے امریکی فیصلے کے عالمی اثرات متوقع ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ کرنسی ریال کی قدر میں غیر معمولی گراوٹ کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے، جو اب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے ایک بڑے سیاسی چیلنج کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔
امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکار دونوں شامل ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کی گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
بعض بین الاقوامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔مزید برآں، ایران میں انٹرنیٹ کی جزوی یا مکمل بندش کے باعث زمینی حقائق تک رسائی انتہائی محدود ہو گئی ہے، جس کے سبب عالمی میڈیا ادارے براہِ راست رپورٹنگ کرنے سے قاصر ہیں۔












