اسکردو(پاک ترک نیوز) گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے جبکہ مختلف حلقوں سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 24 عمومی نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں اترے۔
صوبے بھر میں پولنگ اسٹیشنوں پر صبح سے ووٹرز کا غیرمعمولی رش دیکھنے میں آیا۔ کئی مقامات پر مرد اور خواتین ووٹرز کی لمبی قطاریں نظر آئیں جبکہ پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہی۔
موصولہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق کئی حلقوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے، جبکہ متعدد حلقوں میں آزاد امیدوار بھی نمایاں پوزیشن میں ہیں۔
گلگت کے حلقہ جی بی اے 1 میں پیپلز پارٹی کے امجد حسین برتری حاصل کیے ہوئے ہیں جبکہ جی بی اے 2 اور جی بی اے 3 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار آگے ہیں۔
نگر اور ہنزہ کے بعض حلقوں میں آزاد امیدواروں نے مضبوط پوزیشن حاصل کر رکھی ہے، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ مقامی شخصیات بھی انتخابی میدان میں بھرپور مقابلہ کر رہی ہیں۔
اسکردو اور بلتستان ڈویژن میں پیپلز پارٹی اور ایم ڈبلیو ایم سرگرم
اسکردو کے حلقہ جی بی اے 7 میں پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی نے غیر سرکاری نتائج کے مطابق کامیابی حاصل کرلی ہے۔ یہ اب تک سامنے آنے والا پہلا واضح نتیجہ ہے جہاں تمام پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج موصول ہو چکے ہیں۔
استور کے دونوں حلقوں جی بی اے 13 اور جی بی اے 14 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار معمولی فرق سے آگے ہیں۔ خصوصاً جی بی اے 14 میں مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
غذر کے تین حلقوں میں سے دو میں آزاد امیدوار برتری حاصل کیے ہوئے ہیں جبکہ ایک حلقے میں مسلم لیگ (ن) آگے ہے۔
گھانچے کے حلقوں میں بھی آزاد امیدواروں نے حیران کن کارکردگی دکھائی ہے۔ حلقہ جی بی اے 23 میں آزاد امیدوار انور علی نمایاں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں جبکہ جی بی اے 24 گھانچے 3 میں آزاد امیدوار اسد شفیق نے واضح کامیابی حاصل کرلی ہے۔
ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں کسی ایک جماعت کی واضح برتری سامنے نہیں آئی۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، مجلس وحدت مسلمین، استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدوار مختلف حلقوں میں کامیابیاں حاصل کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو حکومت سازی کے لیے آزاد امیدواروں کی حمایت فیصلہ کن حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔ تاہم حتمی سیاسی منظرنامہ تمام 24 حلقوں کے سرکاری نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا۔











