تہران:(پاک ترک نیوز)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کو آزمانے کی کوشش کی تو تہران جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن پر فوجی کارروائی کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ اگرچہ موجودہ بے چینی کے دوران امریکہ کے ساتھ رابطے کے چینلز کھلے ہوئے ہیں، تاہم ایران ہر ممکن آپشن کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں اس وقت ایران کی فوجی تیاری کہیں زیادہ وسیع اور مضبوط ہے۔یہ بیان صدر ٹرمپ کے اتوار کے روز دیے گئے ریمارکس کے بعد سامنے آیا، جب ایران میں معاشی بحران کے باعث شروع ہونے والے مظاہرے اب نظام کی تبدیلی کے مطالبات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف “سخت اقدامات” پر غور کر رہے ہیں، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ٹرمپ نے، جنہوں نے حال ہی میں امریکی اسپیشل فورسز کے ذریعے وینزویلا کے بائیں بازو کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کرانے کا حکم دیا تھا، یہ بھی کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ “ملاقات سے پہلے موجودہ صورتحال کے باعث ہمیں کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔”عباس عراقچی نے کہا،“اگر واشنگٹن فوجی آپشن آزمانا چاہتا ہے، تو وہ یہ تجربہ پہلے بھی کر چکا ہے، اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔”
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ دانشمندانہ راستہ اختیار کرتے ہوئے مذاکرات کا انتخاب کرے گا، تاہم ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ کچھ عناصر واشنگٹن کو اسرائیل کے مفادات کے لیے جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔انٹرویو کے دوران عراقچی نے بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی جانب بھی اشارہ کیا اور ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ “دہشت گرد عناصر” مظاہرین کے ہجوم میں شامل ہو کر سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایران گزشتہ دو ہفتوں سے جاری بدامنی کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کرتا رہا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں 100 سے زائد سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اپوزیشن کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور اس میں سینکڑوں مظاہرین شامل ہیں۔ الجزیرہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔جمعرات سے ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔
عباس عراقچی نے الجزیرہ کو بتایا کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے ساتھ ان کے رابطے مظاہروں سے پہلے اور بعد میں بھی جاری رہے ہیں اور اب بھی قائم ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن کے ساتھ زیرِ بحث آنے والی تجاویز تہران میں زیرِ غور ہیں۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ“امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز اور ہمارے ملک کے خلاف دھمکیاں ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔”
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا،“ہم جوہری مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ یہ بات چیت دھمکیوں اور حکم ناموں کے بغیر ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن منصفانہ اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے؟”انہوں نے مزید کہا کہ جب امریکہ سنجیدگی دکھائے گا، ایران اس پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔












