لاہور(پاک ترک نیوز ) لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں ماں اور تین بچوں کی لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں ،لاہور پولیس نےبچوں کے والد ناصر کا بیان قلمبند کر لیا
ناصر نے بیان میں کہا خاتون تین سال سے ذہنی کیفیت میں مبتلا تھی،6 ماہ قبل ادویات چھوڑ دی، گروسری لیکر گھر پہنچا تو بیوی سے پوچھا بچے کدھر ہیں۔ بیوی نے کہا بچے فاطمہ کیساتھ فلم دیکھنے گئے ہیں۔
ناصر کے مطابق بیوی کو کہا تم نے کیوں بھیجا، ہم بھی ساتھ جاتے، بیوی نے کہا تم آئس کریم کھاؤ صبح سے کچھ نہیں کھایا، بیوی سے گفتگو کر رہا تھا کہ دروازہ کھٹکا۔
ناصر نے بتایا کہ دروازہ کھولا تو محلہ داروں نے کہا پچھے صحن میں بچے پڑے ہیں، میں صحن کی جانب بھاگا، میرے بچے مردہ حالت میں پڑے تھے۔ اس دوران بیوی کی بیوی کی طعبیت بھی بگڑی قریبی اسپتال منتقل کیا
ناصر نے بیان دیا بچوں کو امریکہ سے لاہور ڈاکٹریٹ کی تعلیم دلوانا چاہتا تھا، امریکہ میں تعلیمی اخراجات زیادہ ہونے پر سوچا پاکستان سے ڈاکٹر بناؤں ۔
ٰیہ بھی پڑھیں:لاہور میں خراب سینڈوچ واپس کرنے کیلئے آنیوالی خاتون پر تشدد
ناصر نے بیان دیا خدشہ ہے بیوی نے آئس کریم میں بچوں کو کچھ دیا، فرانزک ٹیموں اور پولیس نے لاشوں کا دوبارہ معائنہ شروع کر دیا،پولیس کے مطابق واقعہ نہایت پچیدہ ہے، مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے
پولیس حکام کے مطابق خاتون کے رشتہ داروں سے امریکہ اور کینیڈا بھی بات ہوئی، بچوں کو زہریلی چیز کھلائی گئی یا زہر تفتیش کر رہے ہیں،
پولیس حکام کے مطابق فیملی کا تعلق سیالکوٹ پسرور سے ہے، بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار والد یا والدہ کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہو گا،محلے دار کے ملازمہ نے پیچھے گلی میں بچوں کی لاشیں دیکھی، معاملے کی مکمل باریک بینی سے تفتیش کر رہے ہیں۔












