لاہور( پاک ترک نیوز) آسمان کی وسعتوں سے آگے، جہاں ایک معمولی غلطی بھی زندگی خطرے میں ڈال سکتی ہے، دو خواتین خلا بازوں نے خلائی اسٹیشن کے باہر کئی گھنٹوں تک کام کرکے نہ صرف اہم آلات تبدیل کیے بلکہ خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک اور سنگِ میل بھی قائم کردیا۔جیسیکا میئر اور سوفی ایڈنو نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے باہر نکل کر تقریباً سات گھنٹے تک خلا میں کام کیا۔
دونوں خواتین خلا بازوں نے سب سے پہلے خلائی اسٹیشن کے اگلے حصے پر نصب ایک اہم عکاس آلہ تبدیل کیا۔یہ آلہ زمین سے آنے والے خلائی جہازوں کو خلائی اسٹیشن تک پہنچنے اور درست مقام پر اترنے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔پرانا آلہ خلائی جہازوں کے آنے جانے کے دوران خارج ہونے والے مواد سے متاثر ہوچکا تھا، جس کے باعث اسے تبدیل کرنا ضروری ہوگیا تھا۔اس کے بعد دونوں خلا بازوں نے خلائی اسٹیشن کے بیرونی حصے پر نصب ایک انتہائی واضح تصویر بنانے والا کیمرہ بھی تبدیل کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز لندن پہنچ گئیں، بلاول بھٹو سے ملاقات متوقع
کیمرا کامیابی سے نکالے جانے پر جیسیکا میئر نے خوشی کا اظہار کیا، جبکہ زمین پر موجود خلائی مرکز میں موجود ماہرین نے تالیاں بجا کر کامیابی کا خیرمقدم کیا۔مہم کے دوران سوفی ایڈنو نے خلائی اسٹیشن کی بیرونی سطح اور اپنے دستانوں سے نمونے بھی حاصل کیے، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ خلا کے انتہائی سخت ماحول میں کسی قسم کے خوردبینی جاندار موجود تو نہیں۔دوسری جانب جیسیکا میئر نے خلائی اسٹیشن کے روبوٹک بازو کی مدد سے ایک اہم سائنسی آلے تک رسائی حاصل کی اور مستقبل میں ہونے والی مرمت کی تیاری کے لیے 46 پیچ کسنے کا کام مکمل کیا۔انہوں نے بجلی اور درجہ حرارت برقرار رکھنے والی تاریں بھی دوسری جگہ منتقل کیں، تاکہ آئندہ ہونے والی خلائی مہم میں انہیں استعمال کیا جاسکے۔
لیکن مہم کے آخری لمحات میں صورتحال اچانک تشویش ناک ہوگئی۔سوفی ایڈنو نے بتایا کہ ان کے خلائی لباس کے بائیں کندھے کی حرکت محدود ہوگئی ہے۔زمین پر موجود ماہرین نے فوری طور پر احتیاطی تدبیر اختیار کی اور انہیں وہیں رکنے کی ہدایت دی۔جیسیکا میئر ان کے پاس پہنچیں اور دونوں واپس خلائی اسٹیشن کے داخلی راستے تک آئیں۔
وہاں میئر نے ایڈنو کے خلائی لباس کے بازو کا جائزہ لیا اور لباس میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو دور کردیا، جس کے بعد ان کی حرکت بحال ہوگئی۔یہ جیسیکا میئر کی ساتویں اور سوفی ایڈنو کی تیسری خلائی چہل قدمی تھی۔جیسیکا میئر اب خواتین خلا بازوں میں خلا میں سب سے زیادہ وقت گزارنے کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر آگئی ہیں۔وہ اب تک تقریباً 49 گھنٹے 22 منٹ خلا سے باہر کام کرچکی ہیں۔یہ مہم بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی تعمیر، مرمت اور بہتری کے لیے کی جانے والی 284ویں خلائی چہل قدمی تھی۔
اور خاص بات یہ کہ تاریخ میں یہ چھٹی مرتبہ تھا جب مکمل طور پر خواتین خلا بازوں نے مل کر خلائی اسٹیشن کے باہر ایسی مہم انجام دی۔












