بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین کے خودمختار علاقے تبت کے ناگچو شہر کے امڈو کاؤنٹی میں دنیا کے بلند ترین سولر تھرمل پاور پلانٹ کی تعمیر میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں سولر فیلڈ میں 15 ہزار 927 ہیلیواسٹیٹس یعنی سورج کی روشنی کا رخ موڑنے والے آئینے نصب کر دیے گئے ہیں۔
100 میگاواٹ صلاحیت کا یہ منصوبہ تقریباً 8 لاکھ مربع میٹر رقبے پر قائم کیا جا رہا ہے، جو تقریباً 86 لاکھ مربع فٹ بنتا ہے۔ منصوبے کو اکتوبر 2026 میں قومی بجلی کے گرڈ سے منسلک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ تبت کا پہلا ٹاور طرز کا سولر تھرمل پاور پلانٹ ہے اور انتہائی بلند مقام، شدید سردی، تیز ہواؤں اور کمزور بجلی کے نظام والے علاقے میں اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔
منصوبے میں نصب ہیلیواسٹیٹس سورج کی روشنی کو ٹریک کرتے ہوئے اسے مرکزی ٹاور کے اوپر نصب ریسیور کی جانب مرکوز کریں گے۔ اس ٹاور کی اونچائی 210 میٹر، یعنی تقریباً 689 فٹ ہے۔
پلانٹ میں پگھلے ہوئے نمک یعنی مولٹن سالٹ کی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
سورج کی روشنی سے پیدا ہونے والی حرارت کو نمک میں محفوظ کیا جائے گا، جسے بعد میں بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے سورج غروب ہونے کے بعد بھی کچھ عرصے تک بجلی کی پیداوار جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔
ناگچو میں سالانہ 2 ہزار 800 گھنٹے سے زیادہ دھوپ ملتی ہے، تاہم انتہائی بلند مقام اور سخت موسمی حالات نے منصوبے کی تعمیر کو انجینئرز کے لیے بڑا چیلنج بنا دیا۔
منصوبے کے مطابق پلانٹ سالانہ تقریباً 25 کروڑ 50 لاکھ کلو واٹ گھنٹے بجلی پیدا کرے گا۔ اس سے ہر سال تقریباً 60 ہزار ٹن معیاری کوئلے کی بچت اور تقریباً 1 لاکھ 65 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا پر سیارچے کا خطرہ؟ چینی سائنسدانوں کا حیران کن دفاعی منصوبہ، زمین کیسے بچے گی؟
منصوبے سے مقامی آبادی کو بھی معاشی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران مقامی کسانوں اور چرواہوں کو تربیت فراہم کی گئی، جس سے اندازے کے مطابق مقامی افراد کی آمدنی میں تقریباً 11 کروڑ 80 لاکھ یوآن اضافہ ہوگا۔
15 ہزار 927 آئینوں کی تنصیب مکمل ہونے کے بعد منصوبہ اب اپنے اکتوبر 2026 میں بجلی کے قومی گرڈ سے منسلک ہونے کے ہدف کے مزید قریب پہنچ گیا ہے۔












