اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) نیپرا نے آئندہ 800 میگاواٹ کے ونڈ اور سولر پاور منصوبوں کی نیلامی میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم لازمی قرار دینے کی حکومتی تجویز کی منظوری دے دی۔
نیپرا کے مطابق سولر اور ونڈ منصوبوں میں نصب بیٹری اسٹوریج سسٹم کی صلاحیت متعلقہ منصوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت کے کم از کم 10 فیصد کے برابر ہونا ضروری ہوگا۔
ترمیم شدہ وِیلنگ آکشن پراسیس کے تحت آزاد سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) رواں ماہ 400 میگاواٹ کے پہلے بلاک کے لیے بولیوں کی دعوت جاری کرسکے گا۔
پہلی نیلامی میں شرکا کو درخواست برائے تجاویز جاری ہونے کے بعد اپنی بولیاں جمع کرانے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا جائے گا، جبکہ آئندہ نیلامیوں کے لیے یہ مدت ایک ماہ ہوگی۔
یہ بھی پڑھںی: چین میں دنیا کا بلند ترین سولر تھرمل پاور پلانٹ، 15 ہزار 927 آئینے نصب
حکام کے مطابق بیٹری اسٹوریج سسٹم کو لازمی کرنے کا مقصد قابلِ تجدید توانائی کو قومی گرڈ میں بہتر انداز سے شامل کرنا اور "ڈک کَرْو” کے مسئلے سے نمٹنا ہے۔
ڈک کَرْو کی صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دن کے اوقات میں بڑی تعداد میں صارفین سولر بجلی استعمال کرنے کے باعث گرڈ سے کم بجلی لیتے ہیں، لیکن شام کے وقت سولر پیداوار کم ہوتے ہی یہی صارفین اچانک دوبارہ گرڈ پر آجاتے ہیں، جس سے بجلی کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔نیپرا کے مطابق بیٹری اسٹوریج گرڈ میں لچک پیدا کرنے اور بجلی کی طلب و رسد میں توازن برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ نیلامی میں کم از کم 10 فیصد بیٹری اسٹوریج لازمی ہوگا، تاہم سرمایہ کار اس سے زیادہ صلاحیت کی بیٹریاں بھی نصب کرسکیں گے، کیونکہ ماڈلنگ کے مطابق زیادہ بیٹری اسٹوریج سے منصوبوں کی مالی استعداد بہتر ہوسکتی ہے۔
نیپرا نے نیلامی کے عمل سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی ہے۔












