بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان میں واقع دنیا کے بلند ترین ڈیم والے شوانگ جیانگ کو ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے پہلے مرحلے کے تین بجلی پیدا کرنے والے یونٹس فعال ہوگئے ۔چائنا انرجی انویسٹمنٹ کارپوریشن کے مطابق دریائے دادو پر تعمیر کیے گئے اس منصوبے میں تین جنریٹنگ یونٹس کو آپریشنل کردیا گیا ہے، جس سے سیچوان اور چین کے چینگ دو، چونگ چھنگ اقتصادی خطے میں موسم گرما کے دوران بجلی کی طلب پوری کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
شوانگ جیانگ کو ہائیڈرو پاور اسٹیشن کا ڈیم 315 میٹر بلند ہے، جسے دنیا کا بلند ترین ڈیم قرار دیا گیا ہے۔ منصوبے کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 20 لاکھ کلو واٹ ہے، جبکہ اس میں 5 لاکھ کلو واٹ صلاحیت کے چار فرانسس ٹربائن یونٹس نصب کیے گئے ہیں۔منصوبے کے ذخیرۂ آب میں تقریباً 2.9 ارب مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ یہ منصوبہ سیلاب سے بچاؤ، بجلی کی پیداوار اور پانی کے وسائل کی تقسیم سمیت متعدد مقاصد کے لیے استعمال ہوگا۔منصوبے کا پہلا یونٹ جون میں فعال کیا گیا تھا، جس کے بعد مزید دو یونٹس کو بھی بجلی کے قومی نظام سے منسلک کردیا گیا۔ حکام کے مطابق اسٹیشن نے اب تک مجموعی طور پر 50 کروڑ کلو واٹ آور صاف بجلی پیدا کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا 40 ہزار ٹن وزنی ’ڈرون کیریئر‘ آخری سمندری آزمائش میں داخل
تمام یونٹس مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد شوانگ جیانگ کو پاور اسٹیشن سے سالانہ تقریباً 7.7 ارب کلو واٹ آور بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ دریائے دادو کے زیریں حصے میں موجود پن بجلی منصوبوں کی سالانہ پیداوار میں بھی تقریباً 6.6 ارب کلو واٹ آور اضافہ متوقع ہے۔












