بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین کے جدید ٹائپ 076 جنگی بحری جہاز نے حتمی سمندری آزمائشوں کا مرحلہ شروع کردیا ہے، جبکہ اسی دوران چین کا جدید جی جے 21 اسٹیلتھ ڈرون بھی ایک بار پھر منظرِ عام پر آگیا ہے۔چینی میڈیا کے مطابق ٹائپ 076 بحری جہاز، جسے سیچوان کا نام دیا گیا ہے، کا وزن تقریباً 40 ہزار ٹن ہے اور جسامت کے اعتبار سے یہ روایتی ایمفی بیئس اسالٹ شپ اور چھوٹے طیارہ بردار بحری جہاز کے درمیان دکھائی دیتا ہے۔
سیچوان کو فوجیوں، لینڈنگ کرافٹ، بکتر بند گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم اس جہاز کی سب سے اہم خصوصیت اس کا الیکٹرو میگنیٹک ایئرکرافٹ لانچ سسٹم ہے۔ عام طور پر ایمفی بیئس اسالٹ بحری جہاز ہیلی کاپٹروں اور عمودی یا مختصر فاصلے سے ٹیک آف کرنے والے طیاروں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔لیکن چینی بحری جہاز سیچوان کے فلائٹ ڈیک میں ایک کیٹاپلٹ نصب کیا گیا ہے، جو امریکی بحریہ کے جدید فورڈ کلاس طیارہ بردار بحری جہازوں کے EMALS نظام سے مشابہ تصور کیا جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے روایتی فکسڈ وِنگ طیارے بھی بحری جہاز سے لانچ کیے جاسکتے ہیں جو عمودی انداز میں ٹیک آف نہیں کرسکتے۔اسی وجہ سے دفاعی ماہرین اسے روایتی ایمفی بیئس اسالٹ شپ کے بجائے ’’ڈرون کیریئر‘‘ قرار دینے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین کی کار مارکیٹ میں بحران، بی وائی ڈی کا منافع بیرونِ ملک فروخت کے باعث 5 سہ ماہی بعد بڑھ گیا
چین کے نئے جی جے 21 اسٹیلتھ ڈرون کی دوبارہ موجودگی نے اس جنگی بحری جہاز کی صلاحیتوں کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق چین ممکنہ طور پر ٹائپ 076 کو چھوٹے نگرانی کرنے والے ڈرونز کے بجائے بڑے بغیر پائلٹ جنگی طیاروں کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کررہا ہے۔اگر یہ تصور عملی شکل اختیار کرلیتا ہے تو سیچوان ایک ایسے بحری پلیٹ فارم میں تبدیل ہوسکتا ہے جو ایک ہی وقت میں فوجی دستوں کی منتقلی، ایمفی بیئس آپریشنز، ہیلی کاپٹر آپریشنز اور بڑے جنگی ڈرونز کی فضائی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتا ہو۔
چین کی جانب سے ٹائپ 076 کی حتمی آزمائش اور جی جے 21 اسٹیلتھ ڈرون کی بیک وقت منظرعام پر آمد نے خطے میں بیجنگ کی بغیر پائلٹ فضائی جنگی صلاحیتوں اور بحری طاقت میں تیزی سے اضافے کی جانب نئی توجہ مبذول کرادی ہے۔












