بیجنگ ( پاک ترک نیوز) ناظرین، اگر ایک دیوہیکل سیارچہ تیزی سے زمین کی طرف بڑھنے لگے تو کیا انسانیت کے پاس اسے روکنے کا کوئی راستہ ہوگا؟ کیا واقعی ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جو دنیا کو ممکنہ عالمی تباہی سے بچا سکے؟ اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے چینی سائنسدان ایک نئے اور غیرمعمولی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
چینی ماہرین نے ایک ایسا دفاعی تصور پیش کیا ہے جس کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی خطرناک سیارچہ زمین کے لیے سنگین خطرہ بن جائے تو اس کے اندر ایک جوہری آلہ نصب کرکے دھماکا کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل کا مقصد سیارچے کا رخ زمین سے ہٹا دینا یا اسے اتنے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے کہ وہ فضا میں داخل ہونے سے پہلے ہی اپنی تباہ کن طاقت کھو دے۔
سائنسدانوں کے مطابق زمین کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ماضی میں بڑے سیارچوں کی ٹکر نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، اسی لیے آج دنیا بھر کی خلائی ایجنسیاں زمین کے قریب آنے والے اجسام پر مسلسل نظر رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے جے20 اسٹیلتھ کا پہلا اپ گریڈڈ جنگی طیارہ فضائیہ کے حوالے کردیا
اس منصوبے کے تحت ایک خصوصی خلائی مشن پہلے سیارچے کی سطح پر گہرا سوراخ کرے گا، پھر اس کے اندر جوہری آلہ نصب کیا جائے گا۔ بعد ازاں دھماکے سے پیدا ہونے والی شدید توانائی سیارچے کی سمت بدل سکتی ہے یا اسے کئی چھوٹے حصوں میں تقسیم کر سکتی ہے، جس سے زمین کو ممکنہ تباہی سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ تقریباً 100 میٹر چوڑے سیارچے کو انتہائی طاقتور دھماکے سے مکمل طور پر تباہ کرنا ممکن ہو سکتا ہے، جبکہ ایک کلومیٹر چوڑے سیارچے کی رفتار یا سمت میں معمولی سی تبدیلی بھی اسے زمین سے لاکھوں کلومیٹر دور لے جا سکتی ہے۔
البتہ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جوہری دھماکے کے بعد سیارچے کا ردِعمل سو فیصد یقین سے نہیں بتایا جا سکتا، کیونکہ اس کا انحصار اس کی ساخت، کثافت اور رفتار پر ہوگا۔ اسی وجہ سے اس منصوبے کو جدید کمپیوٹر سمیولیشنز اور سائنسی تجربات کے ذریعے مسلسل جانچا جا رہا ہے۔
اگر یہ حکمتِ عملی مستقبل میں کامیاب ثابت ہوئی تو یہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں بلکہ انسانیت کو ممکنہ عالمی تباہی سے بچانے کے لیے ایک اہم دفاعی قدم بھی ثابت ہو سکتی ہے۔












