بیجنگ ( پاک ترک نیوز) ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران چین میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں تقریباً ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تجزیے کے مطابق تیل کی کھپت میں نمایاں کمی، برقی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال اور عوامی نقل و حمل پر انحصار میں اضافے نے چین کے مجموعی کاربن اخراج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
توانائی کے تازہ اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے تیل درآمد کنندہ چین نے دوسری سہ ماہی کے دوران تیل کی درآمد میں تقریباً 32 فیصد کمی کی، جو روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیرل کے برابر بنتی ہے۔تجزیے کے مطابق تیل کی درآمد میں کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ چین کے تزویراتی ذخائر میں پہلے سے موجود تیل استعمال کرنے سے پورا کیا گیا، جبکہ باقی تقریباً ایک تہائی کمی طلب میں کمی کے نتیجے میں سامنے آئی۔چین میں مجموعی تیل کی کھپت تقریباً 9 فیصد کم ہوئی، جبکہ نقل و حمل کے شعبے میں تیل کی کھپت میں 16 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران بڑی تعداد میں پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں سڑکوں سے کم ہوئیں، لیکن برقی گاڑیوں، بسوں، ٹرینوں اور برقی ٹرکوں کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے بلند ترین ڈیم والے ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے تین یونٹس فعال
رپورٹ کے مطابق چین میں برقی ذرائع سے نقل و حمل کا رجحان آبنائے ہرمز کے بحران سے بہت پہلے شروع ہوچکا تھا۔ چین دنیا میں بیٹریوں، برقی گاڑیوں، ہوا سے بجلی بنانے والی ٹربائنوں اور شمسی توانائی کے آلات کا سب سے بڑا تیار کنندہ، صارف اور برآمد کنندہ ہے۔












