لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا بھر میں پاسپورٹ کی طاقت کا اندازہ عموماً ویزا فری ممالک کی تعداد سے لگایا جاتا ہے، تاہم ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاسپورٹ کی اصل اہمیت اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی شہری بیرونِ ملک کسی مشکل صورتحال کا شکار ہو، جیسے گرفتاری، حادثہ، قدرتی آفت یا جنگ۔
رپورٹ کے مطابق ایسے حالات میں سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی قونصلر معاونت پاسپورٹ کی حقیقی طاقت کا معیار ہے، لیکن دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ سہولت قانونی حق نہیں بلکہ حکومتی صوابدید پر منحصر ہوتی ہے۔
برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت کئی ممالک واضح طور پر کہتے ہیں کہ ان کے شہریوں کو بیرونِ ملک قونصلر مدد حاصل کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں، بلکہ حکومت ضرورت کے مطابق مدد فراہم کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یورپی یونین اس معاملے میں منفرد حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ یورپی یونین کے شہریوں کو قونصلر تحفظ معاہدوں کے تحت ایک قانونی حق حاصل ہے۔ اگر کسی یورپی ملک کا سفارت خانہ کسی غیر یورپی ملک میں موجود نہ ہو تو اس ملک کا شہری یورپی یونین کے کسی بھی دوسرے رکن ملک کے سفارت خانے سے اسی سطح کی قونصلر مدد حاصل کر سکتا ہے جو وہاں کے اپنے شہریوں کو دی جاتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ایک پرتگالی یا آئرش پاسپورٹ رکھنے والا شخص عملی طور پر یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک کے سفارتی نیٹ ورک سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 1963ء کے ویانا کنونشن برائے قونصلر تعلقات کے تحت قونصلر خدمات میں ہنگامی سفری دستاویزات جاری کرنا، جرائم یا حادثات کے متاثرین کی مدد، بیرونِ ملک وفات پانے والوں کے اہلِ خانہ کی معاونت، قدرتی آفات یا جنگ کے دوران امداد اور گرفتار شہریوں سے ملاقات شامل ہیں۔
سفارتی نیٹ ورک کے لحاظ سے لووی انسٹی ٹیوٹ گلوبل ڈپلومیسی انڈیکس 2024ء کے مطابق چین دنیا میں سب سے زیادہ 274 سفارتی مشنز رکھتا ہے، جبکہ امریکہ 271 مشنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ ترکی 252 سفارتی مراکز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، اس کے بعد جاپان اور فرانس کا نمبر آتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وسیع سفارتی نیٹ ورک مدد کے امکانات تو بڑھاتا ہے، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر شہری کو یکساں معیار کی مدد بھی ملے گی۔
بحرانی حالات میں شہریوں کے انخلا کے حوالے سے رپورٹ میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور بھارت کا ذکر کیا گیا ہے، جنہوں نے سوڈان سمیت مختلف بحرانوں کے دوران اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کیے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے 1990ء میں کویت سے تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار افراد کا فضائی انخلا کر کے دنیا کی بڑی شہری انخلا کارروائیوں میں سے ایک انجام دی تھی۔
رپورٹ میں دوہری شہریت رکھنے والوں کے لیے بھی اہم وضاحت کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص دو ممالک کا شہری ہو تو عام طور پر اس کے ایک ملک کا سفارت خانہ دوسرے ملک میں اسے قونصلر تحفظ فراہم نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ ملک اسے اپنا ہی شہری تصور کرتا ہے۔
رپورٹ میں برطانوی ایرانی شہری نازنین زاغری ریٹکلف کی مثال دی گئی، جنہیں ایران میں گرفتار کیے جانے کے بعد برطانوی قونصلر حکام تک رسائی نہیں دی گئی کیونکہ ایران دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا۔
رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت حاصل کرنے والے کیریبین ممالک کے پاسپورٹ رکھنے والوں کو اگرچہ محدود سفارتی نیٹ ورک میسر ہوتا ہے، تاہم دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کے تحت برطانوی سفارت خانے بعض صورتوں میں ان کی مدد کر سکتے ہیں، لیکن یہ بھی قانونی حق نہیں بلکہ صوابدیدی سہولت ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گولڈن ویزا حاصل کرنے سے یورپی یونین کے قونصلر تحفظ کا حق نہیں ملتا، کیونکہ یہ سہولت صرف یورپی یونین کی شہریت رکھنے والوں کو حاصل ہوتی ہے، مستقل رہائش رکھنے والوں کو نہیں۔












