اسلام آباد(پاک ترک نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود شہری وجاہت حسین کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نہ نکالنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ احمد رضا سرور، ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور اور ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے شہری کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونا معمول بنتا جا رہا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے بعد کون سا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے اور کیا کوئی کمیٹی ہائیکورٹ کے فیصلوں کی جانچ پڑتال کرے گی؟
پاسپورٹ اینڈ امیگریشن حکام نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ نظرثانی کمیٹی میں ہے اور متعلقہ کمیٹی عدالتی احکامات کا جائزہ نہیں لیتی، نہ ہی عدالتی فیصلوں کے خلاف جاتی ہے۔ حکام نے تسلیم کیا کہ طریقہ کار میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور بتایا کہ گزشتہ ہفتے اجلاس شیڈول تھا، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر منعقد نہیں ہو سکا۔
اس پر جسٹس اعظم خان نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت نے فیصلہ دے دیا ہے تو اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ فیصلے سے اختلاف کی صورت میں اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے، لیکن اپنی طرف سے کمیٹی بنا کر عدالتی حکم پر عمل درآمد میں تاخیر نہیں کی جا سکتی۔
جسٹس اعظم خان نے کہا کہ لوگ انصاف کے لیے عدالتوں میں آتے ہیں، اگر عدالتی احکامات پر عمل نہیں ہوگا تو شہری کہاں جائیں گے؟ عدالتوں کو بے توقیر نہ کیا جائے، کیونکہ کمزور اور بے بس افراد ہی انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس اعظم خان نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اب غیر مشروط معافی قبول نہیں کی جائے گی اور عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک مقدمے میں متعلقہ ایجنسیوں کی رپورٹس بھی موجود ہیں۔ اس پر جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی فیصلے سے اختلاف ہے تو اسے اپیل کے ذریعے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی شخص کے خلاف ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد ہیں تو عدالت کو آگاہ کیا جائے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جب عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے نام پی سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا تو متعلقہ حکام کو فوری طور پر اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کو ریلیف نہ ملا تو نومبر کے وسط میں اسلام آباد مارچ کریں گے، حافظ نعیم الرحمان
عدالت نے امیگریشن اینڈ پاسپورٹ حکام کو شہری وجاہت حسین کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کل تک مہلت دے دی۔
جسٹس اعظم خان نے خبردار کیا کہ اگر عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو کل سے توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔












