لاہور( پاک ترک نیوز) حجاج کی پھینکی گئی کنکریاں کہاں جاتی ہیں؟
منیٰ میں ہر سال لاکھوں حجاج کرام جمرات کے مقام پر رمی کا فریضہ انجام دیتے ہیں، جہاں شیطان کو کنکریاں مارنے کی سنت ادا کی جاتی ہے۔
لیکن اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ضرور آتا ہے کہ آخر ان لاکھوں کروڑوں کنکریوں کا کیا ہوتا ہے جو رمی کے دوران استعمال کی جاتی ہیں؟
جمرات کمپلیکس کو جدید انجینئرنگ کے مطابق اس انداز میں تعمیر کیا گیا ہے کہ رمی کے دوران پھینکی جانے والی ہر کنکری مخصوص حوض نما حصے سے گزرتے ہوئے تقریباً 15 میٹر نیچے زیر زمین حصے میں پہنچ جاتی ہے۔
یہ کنکریاں ایک جدید خودکار نظام کے تحت کنویئر بیلٹس کے ذریعے جمع کی جاتی ہیں، جہاں چاروں منزلوں سے آنے والی تمام کنکریاں ایک مرکزی کیبن میں منتقل کر دی جاتی ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق حج کے ایام مکمل ہونے اور حجاج کے منیٰ سے روانہ ہونے کے بعد خصوصی مشینری کے ذریعے ان کنکریوں کو نکالا جاتا ہے۔بعد ازاں انہیں پانی اور جراثیم کش مواد سے اچھی طرح صاف کیا جاتا ہے تاکہ مٹی اور آلودگی ختم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے حج2027کی تیاریاں کا آغاز کردیا
حکام کا کہنا ہے کہ صاف کیے جانے کے بعد انہی کنکریوں کو دوبارہ پیک کر کے آئندہ حج سیزن کے لیے محفوظ کر لیا جاتا ہے جبکہ کچھ کنکریاں مزدلفہ کے علاقوں میں دوبارہ بکھیر دی جاتی ہیں تاکہ حجاج انہیں آسانی سے جمع کر سکیں۔
واضح رہے کہ جمرات کمپلیکس تقریباً 950 میٹر طویل اور 80 میٹر چوڑا جدید ترین منصوبہ ہے، جسے لاکھوں افراد کی محفوظ رمی کے لیے تیار کیا گیا۔
چار منزلہ اس عظیم کمپلیکس میں حجاج کی آمد و رفت کے لیے متعدد راستے بنائے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کا رش یا بھگدڑ پیدا نہ ہو۔
جدید طرز تعمیر کے حامل جمرات کے ستون تقریباً 60 میٹر بلند اور بیضوی شکل میں بنائے گئے ہیں تاکہ ہر سمت سے آنے والے حجاج آسانی اور محفوظ انداز میں رمی کر سکیں۔












