ماسکو ( پاک ترک نیوز) روس کے مرکزی بینک نے 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اپنے ذخائر میں موجود تقریباً 43.5 ٹن سونا فروخت کر دیا۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام کا مقصد بجٹ خسارہ کم کرنا، زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینا اور بڑھتے ہوئے سرکاری اخراجات پورے کرنا ہے۔
مرکزی بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے آغاز تک روس کے پاس 2 ہزار 282 ٹن سونے کے ذخائر موجود تھے، جن کی مالیت تقریباً 299 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ سال کے آغاز سے اب تک روس کے سونے کے ذخائر میں 14 لاکھ اونس یا 43.5 ٹن کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق روس کے سرکاری ذخائر میں مسلسل چھٹے ماہ کمی دیکھی گئی ہے، جو گزشتہ تقریباً 25 برس کی سب سے بڑی کمیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فروخت کیے گئے سونے کا بڑا حصہ روسی بینکوں کو کھلے اور نجی مالیاتی لین دین کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق جون کے اختتام پر روس کے مجموعی سرکاری ذخائر 720.4 ارب ڈالر رہ گئے، جو مئی میں 747.4 ارب ڈالر تھے، جبکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 392.4 ارب ڈالر پر مستحکم رہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق روس کو یوکرین جنگ، مغربی پابندیوں اور تیل و گیس کی کم آمدنی کے باعث شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت کو بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے سونے کے ذخائر سے فائدہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔
تجزیہ کار نتالیہ ملچاکووا کے مطابق مارچ کے اختتام تک روس کا بجٹ خسارہ 4.6 کھرب روبل تک پہنچ چکا تھا، اور اگر مرکزی بینک نے سونا فروخت نہ کیا ہوتا تو یہ خسارہ 5 کھرب روبل سے بھی تجاوز کر سکتا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سونے کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک حصہ چینی کرنسی یوآن میں تبدیل کیا گیا تاکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنایا جا سکے، کیونکہ سال کے آغاز میں برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی توقعات سے کم رہی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
رپورٹ کے مطابق روس نے 2002 سے 2025 کے دوران تقریباً 1,900 ٹن سونا خرید کر اپنے ذخائر میں نمایاں اضافہ کیا تھا اور دنیا کے بڑے سرکاری خریداروں میں شمار ہوتا رہا، تاہم 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار اس کی خریداری میں نمایاں کمی اور فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اب بھی دنیا کا دوسرا بڑا سونا پیدا کرنے والا ملک ہے اور سالانہ 300 ٹن سے زائد سونا پیدا کرتا ہے۔ اس کے باوجود جنگی اخراجات، معاشی پابندیوں اور مالی دباؤ کے باعث حکومت کو اپنے قیمتی ذخائر استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔












