واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود ایک خلا باز نے 16 جون 2026 کو امریکی شہر سیئٹل کی ایک شاندار تصویر کھینچی، جس میں صبح کی سنہری دھوپ میں نہایا ہوا شہر، سرسبز پارک، بلند عمارتیں اور اردگرد پھیلے آبی راستے نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
سیئٹل کو اس کی گھنی ہریالی کی وجہ سے "زمردی شہر” بھی کہا جاتا ہے۔ شہر کے بے شمار پارک، درختوں سے بھرپور رہائشی علاقے اور قدرتی مناظر اسے ایک منفرد شناخت دیتے ہیں، جبکہ شہر کے گرد موجود سمندری راستوں پر مال بردار، مسافر اور تفریحی کشتیاں بھی رواں دواں نظر آتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سیئٹل اور اس کے اطراف کی موجودہ جغرافیائی ساخت تقریباً 16 ہزار سے 18 ہزار سال پہلے برفانی دور کے دوران وجود میں آئی، جب ایک دیوہیکل برفانی تودہ اس علاقے پر تقریباً ایک ہزار میٹر موٹی برف کی تہہ کے ساتھ پھیلا ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران معاہدے کے لیے ہم سے بھیک مانگ رہا ہے،مارکو روبیو
برفانی تودوں کی حرکت نے موجودہ پیوجٹ ساؤنڈ، متعدد جھیلوں اور شہر کی پہاڑیوں کی شکل و صورت تشکیل دی۔ یہی وجہ ہے کہ سیئٹل آج بھی اپنی اونچی نیچی سڑکوں اور ڈھلوانی علاقوں کے لیے مشہور ہے۔
برفانی دور کے دوران شمالی علاقوں سے بڑے بڑے پتھر بھی یہاں منتقل ہوئے، جن میں مشہور ویج ووڈ راک بھی شامل ہے، جو تقریباً 20 فٹ بلند ہے اور آج بھی شمالی سیئٹل میں موجود ہے۔
بعد ازاں انسانوں نے بھی شہر کی جغرافیائی ساخت میں نمایاں تبدیلیاں کیں۔ شہر کے وسط کے قریب ایک بڑی پہاڑی کو ہموار کیا گیا، جبکہ دریا کے دہانے پر زمین بھر کر تقریباً 1,300 ایکڑ نئی اراضی تیار کی گئی، جہاں آج سیئٹل کے بڑے کھیلوں کے میدان قائم ہیں۔
سن 2010 کے بعد شہر کے ساحلی علاقے کو جدید بنانے کے لیے بڑے منصوبے مکمل کیے گئے، جن میں نئی فیری ٹرمینل، مضبوط ساحلی حفاظتی دیوار اور ایک زیرِ زمین سرنگ شامل ہے، جس نے پرانی شاہراہ کی جگہ لے کر عوام کے لیے ساحلی علاقے تک رسائی مزید آسان بنا دی۔
اسی طرح گزشتہ صدی کے آغاز میں نہریں تعمیر کر کے پیوجٹ ساؤنڈ کو لیک یونین اور لیک واشنگٹن سے جوڑا گیا، جس سے آبی نقل و حمل میں نمایاں بہتری آئی اور جھیل واشنگٹن کی سطحِ آب بھی تقریباً تین میٹر کم ہو گئی۔
آج سیئٹل کے آبی راستے تجارتی جہازوں، سیاحتی بحری جہازوں، مسافر بردار فیریوں، آبی طیاروں اور تفریحی کشتیوں کے لیے اہم گزرگاہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق جدید شہری ترقی کے باوجود سیئٹل میں صدیوں پرانے جنگلات اب بھی محفوظ ہیں، جہاں دیودار اور دوسرے قدیم درخت موجود ہیں، جبکہ گنجے عقاب، جنگلی لومڑیاں، سمندری شیر اور دیگر جنگلی حیات بھی شہر کے مختلف قدرتی علاقوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہ تصویر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مشاہداتی پروگرام کے تحت لی گئی، جس کا مقصد زمین کے قدرتی اور شہری مناظر کا ریکارڈ محفوظ کرنا اور سائنسی تحقیق کے لیے مفید معلومات فراہم کرنا ہے۔










