اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی کابینہ نے آئندہ چار برسوں کے لیے پہلی جامع حج پالیسی اور پلان کی منظوری دے دی ، پالیسی کا مقصد حج انتظامات کو جدید خطوط پر استوار کرنا، ڈیجیٹل نظام متعارف کرانا اور عازمینِ حج کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نئی طویل المدتی حج پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس پالیسی کے تحت حج آپریشن کے لیے نئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز اور ریگولیٹری فریم ورک تیار کیے جائیں گے، جبکہ سعودی عرب کے قوانین میں تبدیلی کی صورت میں پالیسی کو بھی وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
کابینہ نے حج کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کی دسترس میں لانے کے لیے شریعت کے مطابق بچت اسکیم متعارف کرانے کی بھی منظوری دی، تاکہ خواہشمند افراد مستقبل میں حج کی ادائیگی کے لیے مرحلہ وار بچت کر سکیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نئی پالیسی کے تحت شہری 2030 تک کسی بھی سال کے حج کے لیے پیشگی رجسٹریشن کرا سکیں گے، جس سے وزارتِ مذہبی امور کو ترجیحی ویٹنگ لسٹ تیار کرنے اور بہتر منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت حج کا ٹور آپریٹرز کی رجسٹریشن سے قبل شکایات اور اعتراضات سننے کا فیصلہ
حج انتظامات کو جدید بنانے کے لیے پورے نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا۔ اس میں آن لائن ادائیگی، شکایات کے اندراج اور ازالے کا نظام، نگرانی کا مؤثر نظام اور دیگر جدید سہولیات شامل ہوں گی۔
پالیسی کے مطابق سرکاری اور نجی حج اسکیموں کے لیے الگ الگ کوٹہ برقرار رکھا جائے گا، جبکہ عازمین کو طویل اور مختصر قیام دونوں آپشنز دستیاب ہوں گے۔
وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ نئی پالیسی کے تحت عازمینِ حج کی لازمی تربیت، اسلامی انشورنس ، اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے جامع ایمرجنسی رسپانس میکانزم بھی متعارف کرایا جائے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ حج معاونین کی تقرری مکمل طور پر میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت کی جائے، جبکہ سرکاری اور نجی دونوں حج آپریشنز کا تھرڈ پارٹی آڈٹ اور ویلیڈیشن بھی لازمی قرار دیا جائے تاکہ عازمین کو معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
کابینہ نے رواں سال حج انتظامات کی کامیاب تکمیل پر سردار محمد یوسف اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔












