لاہور( پاک ترک نیوز) سابق پاکستانی فاسٹ بولر عثمان شنواری نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے ٹیسٹ میں ٹیم نے بہترین کم بیک کیا، ٹیم میں جتنا تسلسل ہوگا اتنے ہی اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔
عثمان شنواری نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں قومی ٹیم نے مایوس کیا، تاہم دوسرے ٹیسٹ میں کھلاڑیوں نے بہترین انداز میں کم بیک کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں تسلسل برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ کارکردگی میں مستقل بہتری آئے۔
انہوں نے بابر اعظم کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنانے کے فیصلے کو اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیم کی قیادت کرسکتے ہیں۔
عثمان شنواری کے مطابق ویسٹ انڈیز میں پہلے ٹیسٹ کے دوران پچ فاسٹ بولرز کے لیے سازگار تھی، جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں اسپنرز کو زیادہ مدد مل رہی تھی۔
انگلینڈ کے خلاف سیریز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں کھیلنا پاکستان کے لیے ہمیشہ مشکل رہا ہے، تاہم قومی ٹیم جس فارم اور مومینٹم کے ساتھ جارہی ہے، امید ہے کہ اچھی سیریز ہوگی۔
عثمان شنواری نے شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کو پاکستان کے دو بڑے فاسٹ بولرز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں کوئی مشورہ نہیں دے سکتے، تاہم مسلسل کرکٹ کھیلنے سے فاسٹ بولرز کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاسٹ بولنگ میں آپ کی فٹنس چاہے کرسٹیانو رونالڈو جیسی ہی کیوں نہ ہو، مسلسل بولنگ کرنے سے رفتار کم ہوتی ہے۔ شاہین اور نسیم کو مشورہ دوں گا کہ وہ سلیکٹو کرکٹ کھیلیں۔
عثمان شنواری نے کہا کہ سلیکٹو کرکٹ کھیلنے سے بولرز کی رفتار برقرار رہے گی، ان کا کیریئر طویل ہوگا اور انجریز کے امکانات بھی کم ہوں گے۔
سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ پاکستان میں فاسٹ بولنگ کو رفتار کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، حالانکہ صرف رفتار ہی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ محمد عباس نے گزشتہ میچ میں تقریباً 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرتے ہوئے 8 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے مطابق اسی رفتار کے چکر میں پاکستان نے محمد عباس کے کیریئر کے تین قیمتی سال ضائع کیے۔
عثمان شنواری کا کہنا تھا کہ رفتار ضروری ہے لیکن اسے اتنا بڑا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے جتنا پاکستان میں بنا دیا گیا ہے۔احسان اللہ کے ڈسپلن پر کام ہونا چاہیے۔
احسان اللہ کے حوالے سے عثمان شنواری نے کہا کہ فاسٹ بولر نے اپنی مشکلات کا گلہ کیا ہے، تاہم ان کے خیال میں احسان اللہ کے معاملے میں ڈسپلن کا مسئلہ بھی ہے جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم میں کپتانی ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہی ہے۔ شان مسعود برا کپتان نہیں تھے لیکن انہیں ابھی ٹیم میں اپنی جگہ بنانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹرز کو بیرون ملک لیگز میں شرکت کے لیے این او سی جاری
عثمان شنواری نے واضح کیا کہ ان کا پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوچز کو بھی کھلاڑیوں کی طرح ایک باقاعدہ نظام اور ڈھانچے کے ذریعے قومی ٹیم تک آنا چاہیے۔
انہوں نے پاکستانی کرکٹ کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کسی کو بہت جلد موقع مل جاتا ہے اور وہ براہ راست پاکستان ٹیم کا حصہ بن جاتا ہے، جس سے کھلاڑیوں کی مناسب تربیت اور ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔












