لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بھارت میں شیڈول مینز ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی میں قومی ٹیم کی شرکت کے لیے بھارت جانے سے انکار کرتے ہوئے ٹورنامنٹ یا پاکستان کے تمام میچز غیرجانبدار مقام پر کرانے کی باضابطہ درخواست کردی، تاہم ہاکی انڈیا نے یہ درخواست مسترد کردی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہاکی انڈیا کے سیکریٹری بھولا ناتھ سنگھ نے واضح کیا ہے کہ ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی کے مقام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
بھولا ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ٹورنامنٹ میں شرکت کرنی ہے تو اسے بھارت آنا ہوگا۔ ان کے مطابق ٹورنامنٹ کا موجودہ مقام تبدیل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ہاکی انڈیا کے سیکریٹری نے مزید کہا کہ ایونٹ کے لیے بنگلہ دیش اور عمان متبادل ٹیموں کے طور پر شامل ہیں، اگر پاکستان ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کرتا تو کسی متبادل ٹیم کو شامل کیا جاسکتا ہے۔دوسری جانب پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستانی ٹیم کو بھارت نہیں بھیجا جاسکتا۔ پی ایچ ایف نے ایشین ہاکی فیڈریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹورنامنٹ یا کم از کم پاکستان کے میچز کسی غیرجانبدار مقام پر منتقل کیے جائیں۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کھیل کو سیاست سے پاک رکھنے کے نظریے پر قائم ہے، تاہم کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کی تاریخی آیا صوفیہ مسجد کی بحالی
ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کی حفاظت اور عزت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، اسی لیے غیرجانبدار مقام پر میچز کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی 27 اکتوبر سے 5 نومبر تک بھارت کے موہالی اور جالندھر میں شیڈول ہے۔ پاکستان کی شرکت کے معاملے پر دونوں جانب کے مؤقف کے بعد ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کی موجودگی اب غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔اگر پاکستان شرکت نہیں کرتا تو ہاکی انڈیا کے سیکریٹری کے بیان کے مطابق متبادل ٹیم کو ٹورنامنٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔












