مکہ مکرمہ ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اہم دفاعی پیش رفت کرتے ہوئے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں ہونے والے معاہدے پر وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور خلیجی ممالک کو سیکیورٹی کے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان کئی ماہ سے دفاعی تعاون کے اس فریم ورک پر بات چیت جاری تھی، جسے اب باضابطہ معاہدے کی شکل دے دی گئی ہے۔
مکہ مکرمہ میں ہونے والی اہم ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دفاعی و سیکیورٹی تعاون، علاقائی صورتحال اور مشترکہ سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت، باہمی تعاون اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق کسی ایک ملک کے خلاف مسلح جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ تاہم معاہدے میں کسی مخصوص ملک کو ہدف قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی اسے کسی فوجی اتحاد یا مخصوص ملک کے خلاف بننے والا بلاک قرار دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کو مشترکہ خطرہ قرار دینے پر اتفاق کیا تھا۔ اب ترکیہ کی شمولیت کے بعد دفاعی تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان یہ معاہدہ خطے کی دفاعی اور سفارتی سیاست میں اہم تبدیلی کی علامت ہے۔ تینوں ممالک کی فوجی صلاحیتوں، جغرافیائی اہمیت اور خطے میں اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے اس معاہدے کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے آگے بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی فوجی محور یا فرقہ وارانہ بلاک کے قیام کی کوشش نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانا ہے۔ معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے تینوں ممالک نے علاقائی استحکام اور مشترکہ سلامتی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ دفاعی معاہدہ، او آئی سی کی سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کو مبارکباد
مکہ مکرمہ میں ہونے والی یہ پیش رفت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی و اسٹریٹجک تعاون کی نئی مثال بن گئی ہے، جبکہ خطے میں بدلتی طاقت کے توازن کے تناظر میں اس معاہدے کو آنے والے دنوں میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔












