تہران ( پاک ترک نیوز) مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی ہے ،ایران نے امریکا کو سات دن کا منصوبہ پیش کر دیا ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کا رخ بدل سکتا ہے!ایران نے امریکا کے سامنے جنگ کے خاتمے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کردیا ہے۔۔۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکی شرائط پوری ہوئیں تو آبنائے ہرمز کھولی جاسکتی ہے!یعنی۔۔۔ہرمز کھلے گا، لیکن بدلے میں امریکا کو کیا دینا ہوگا؟امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان جاری رابطوں میں مرحلہ وار معاہدے کے فارمولے پر غور کیا جارہا ہے۔۔۔مجوزہ ڈیل کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کھولے گا۔۔۔جبکہ امریکا کی جانب سے اقتصادی ناکہ بندی ختم کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔۔۔صرف یہی نہیں۔۔۔
ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی بھی مجوزہ معاہدے کا حصہ بن سکتی ہے۔۔۔اور سب سے بڑا معاملہ۔۔۔ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی پیشکش!یعنی ایک طرف ہرمز کی بندش۔۔۔دوسری طرف عالمی منڈی میں تیل کی بے چینی۔۔۔اور اب تہران نے مذاکرات کی میز پر ہرمز کو سب سے بڑے سودے کے طور پر سامنے رکھ دیا ہے!لیکن کہانی میں اصل موڑ ابھی باقی ہے۔۔۔کیا امریکا ایرانی شرائط مانے گا؟رائٹرز کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے مرحلہ وار راستے پر بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔اگر یہ فارمولا کامیاب ہوگیا تو۔۔۔ہرمز کھل سکتا ہے، اقتصادی پابندیوں میں نرمی آسکتی ہے اور دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتے ہیں۔لیکن اگر بات نہ بنی۔۔۔تو دنیا کی نظریں ایک بار پھر آبنائے ہرمز پر ہوں گی۔۔۔












