واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ کی راتیں مسلسل دھماکوں سے گونج رہی ہیں۔ امریکا اور ایران آمنے سامنے ہیں، آبنائے ہرمز جنگ کا سب سے خطرناک محاذ بنتی جا رہی ہے، تیل کی قیمتیں آسمان کی طرف اڑان بھر رہی ہیں، اور دنیا ایک ایسے بحران کے دہانے پر کھڑی ہے جس کے اثرات ہر ملک تک پہنچ سکتے ہیں۔
امریکی فوج نے مسلسل تیسری رات ایران کے فوجی اہداف پر بھرپور حملے کیے۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق کارروائیوں میں ایران کے ساحلی دفاعی نظام، میزائل لانچرز، ڈرون بیسز، بحری تنصیبات اور فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
بوشہر، چاہ بہار، جسک، کونارک، ابو موسیٰ اور بندرعباس ایک بار پھر دھماکوں سے لرز اٹھے، جبکہ جنوب مغربی صوبہ خوزستان میں حملوں کے دوران کم از کم چار افراد زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بندرعباس اور اس کے اطراف رات بھر دھماکوں اور آگ کے شعلوں نے خوف کی فضا قائم کیے رکھی۔
امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں شہری جہازوں اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہیں، تاہم ایران ان حملوں کو اپنی خودمختاری پر کھلا حملہ قرار دے رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا۔ جنوبی آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا، حملے میں عملے کا ایک بھارتی رکن ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ دونوں ٹینکروں میں لگنے والی آگ پر بعد ازاں قابو پا لیا گیا، تاہم امارات نے واضح کیا ہے کہ اسے جوابی کارروائی کا مکمل حق حاصل ہے۔
بحرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے چند ہی گھنٹوں میں ایرانی فضائی حملوں کو ناکام بنا دیا، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی ڈرونز نے کویت میں امریکی فوجی تنصیبات، آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید سخت پیغام دیتے ہوئے پک ایکس ماؤنٹین کے جوہری مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران جو کچھ کر رہا ہے وہ انتہائی بے وقوفانہ ہے، لیکن اگر تہران چاہے تو معاہدے کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف باتیں کرتا ہے، عملی اقدامات نہیں، جبکہ امریکا تیزی سے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے مسلسل تیسری رات ایرانی فوجی اہداف پر حملے
ادھر جنگ کے بڑھتے شعلوں نے عالمی معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔آبنائے ہرمز میں بڑھتے خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر چلی گئیں۔ برینٹ خام تیل تقریباً پچاسی ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی اسی رفتار سے مہنگا ہو رہا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی یا تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوں گے بلکہ دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر بھی جنم لے سکتی ہے۔












