ریاض ( پاک ترک نیوز) امریکی انتظامیہ نے حماس کے وفد کی موجودگی میں ایک ثالث کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے ذریعے حماس کو یہ ضمانت اور وعدہ پیش کیا ہے کہ غزہ میں امن معاہدے کے نافذ العمل ہونے میں باہمی عمل درآمد کے اصول کی پاسداری کی جائے گی۔اوراسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سعودی جریدے کی ذرائع سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے اس بات کییقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کی شقوں پر عمل کرنے کا پابند بنائے گا۔ انخلا اور طے شدہ تمام ذمہ داریوں کو ادا کیا جائے گا۔ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا اور آنے والے مراحل کے دوران مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم امریکی انتظامیہ۔ خاص طور پر امریکی نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اس معاہدے سے دستبردار نہیں ہوگا اور وہ اس کے نفاذ کا ضامن بنے گا۔
رپورٹ کے مطابق حماس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ غزہ کو نہتا کرنے کے معاہدے پر عمل درآمد کا پہلا قدم یہ ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کا قتل عام روکنے اور حملے ختم کرنے کی پابندی کرے۔تنظیم نے کہا ہے کہ بھاری اسلحہ حوالے کرنے کی شق تسلیم کرنا بھی اسرائیل کی جانب سے جنگی کارروائیوں کے خاتمے اور غزہ سے انخلا سے مشروط ہے۔ اسی طرح تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ معاہدے کے فریم ورک میں بھاری اسلحے کے معاملے کو شامل کرنے کی منظوری کو ہر قسم کی جارحیت کے خاتمے، غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے انخلا، ابتدائی بحالی کے حصول، انتظامی کمیٹی کی آمد اور بین الاقوامی حفاظتی افواج کی تعیناتی سے جوڑا اور مشروط کیا گیا ہے۔
حماس کے ایک عہدیدار اور ایک علاقائی اہلکار کے مطابق تنظیم نے اس شرط پر روڈ میپ سے اتفاق کیا ہے کہ اسرائیل بھی رعایتیں دے۔ جارحانہ کارروائیوں کو روکے اور فلسطینی علاقوں سے اپنی افواج کا انخلا کرے۔
دوسری طرف اسرائیل نے اس معاہدے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جس کا اعلان ٹرمپ نے کچھ گھنٹے پہلے کرتے ہوئے اسے تاریخی قرار دیا تھا۔ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر بن گویر نے اس روڈ ” کو مسترد کر دیا جسے جمعہ کے روز غزہ پیس کونسل نے شائع کیا تھا اور اسے اسرائیل کے لیے ناقابل قبول قرار دیا۔ یہ اعلان اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی سرپرستی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے نو ماہ بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:: امریکہ، ایران کشیدگی خطرناک موڑ پر
20 نکات پر مشتمل اس جنگ بندی منصوبے میں حماس سے اپنے ہتھیار چھوڑنے اور اپنی وسیع سرنگوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا، ایک نئی فلسطینی ٹیکنو کریٹ حکومت کی آمد، بین الاقوامی استحکام فورس کے نام سے ایک سکیورٹی فورس کی تعیناتی اور تباہ شدہ فلسطینی علاقے کی دوبارہ تعمیر نو بھی شامل ہے۔ تاہم جنگ بندی کے معاہدے کے اگلے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کافی حد تک تعطل کا شکار ہو گئے تھے کیونکہ اسلحہ سے دستبرداری کا معاملہ ایک بنیادی متنازع نقطہ تھا۔












