اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کے ایک برخوردار حکومت کی الٹی گنتی شروع کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسرے نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اس لیے صدر مملکت کو اپنے بیٹوں کے معاملات کا جائزہ لینا چاہیے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پورے نظام کا آئینی سربراہ صدر مملکت جبکہ حکومت کا انتظامی سربراہ وزیراعظم ہوتا ہے۔ صدر مملکت کو اپنے صاحبزادوں سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کس نوعیت کی گفتگو کر رہے ہیں اور اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے میرپور کے دو حلقوں میں مبینہ دھاندلی سے متعلق کچھ شواہد پیش کیے ہیں، جو متعلقہ امیدوار کے ساتھ بھی شیئر کر دیے گئے ہیں تاکہ اس کا مؤقف معلوم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر الزامات میں کوئی ٹھوس بات سامنے آئی تو اس پر ضرور غور کیا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف اور مقابلہ انتخابی عمل کا حصہ ہے، اسے جنگ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق باہمی رابطہ رکھنا اور معاملات کو بات چیت سے حل کرنا ہی جمہوری روایت ہے، اسی لیے پیپلز پارٹی سے پہلے بھی رابطہ تھا اور اب بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام خود کریں گے،بلاول بھٹو زرداری
انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے دونوں جماعتوں کے درمیان بعض سکیورٹی امور پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ دونوں جماعتوں نے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ پولنگ کے روز اسلحہ ساتھ نہ لائیں، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں انتظامیہ کارروائی کرے گی اور اس پر کسی جماعت کو اعتراض نہیں ہوگا۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق دونوں جماعتوں نے حساس حلقوں اور حساس پولنگ اسٹیشنوں کی بھی نشاندہی کی ہے تاکہ انتظامیہ بہتر سکیورٹی انتظامات یقینی بنا سکے۔












