انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ کی جانب سے روسی ساختہ ایس-400 فضائی دفاعی نظام سے دستبردار ہونے اور دوبارہ امریکی ایف-35 اسٹیلتھ جنگی طیاروں کے پروگرام میں شامل ہونے کی کوشش نے الجزائر، مصر، انگولا اور دیگر افریقی ممالک کو بھی عالمی دفاعی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔
روسی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ ماسکو اور انقرہ کے درمیان ایس-400 نظام کے مستقبل پر بات چیت جاری ہے، تاہم کریملن نے واضح کیا ہے کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور ترکیہ روس کی اجازت کے بغیر یہ نظام کسی دوسرے ملک کو منتقل نہیں کر سکتا۔
اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کو ممکنہ خریدار قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک نہ ترکی اور نہ ہی یو اے ای نے ایسی کسی ڈیل کی تصدیق کی ہے۔
اگرچہ ترکیہ کے ایس-400 نظام کی خریداری کے لیے کسی افریقی ملک کا نام باضابطہ طور پر سامنے نہیں آیا، لیکن اس معاملے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ روسی اور مغربی ہتھیاروں کے درمیان توازن قائم کرنے والے افریقی ممالک مستقبل میں کس سمت جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کی ڈالر سے انحصار کم کرنے کی پالیسی میں بڑی پیش رفت
دفاعی ماہرین کے مطابق الجزائر، مصر، انگولا اور ایتھوپیا جیسے ممالک روسی دفاعی نظام استعمال کرتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی مغربی اور دیگر ممالک سے بھی جدید اسلحہ خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
الجزائر کئی برسوں سے افریقہ میں روسی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار سمجھا جاتا ہے۔
2025 میں الجزائر کا دفاعی بجٹ تقریباً 25.4 ارب ڈالر رہا، جو افریقہ میں سب سے زیادہ ہے۔2020 سے 2024 کے دوران الجزائر کی تقریباً 48 فیصد بڑی دفاعی درآمدات روس سے آئیں۔
الجزائر پہلے ہی ایس-300، بک-ایم2، ٹور-ایم2 اور پینٹسیر ایس1 جیسے جدید فضائی دفاعی نظام استعمال کر رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق الجزائر نے پہلی بار اپنی فوجی مشق "الصمود 2025” میں ایس-400 نظام بھی عوامی سطح پر دکھایا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق الجزائر نے روس سے Su-57E پانچویں نسل کے اسٹیلتھ جنگی طیارے بھی خریدے ہیں، اگرچہ اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس کے باوجود ایسی کوئی اطلاع موجود نہیں کہ الجزائر ترکی کے ایس-400 خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
2019 میں انگولا کے اُس وقت کے وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ملک ایس-400 میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن مالی مشکلات کے باعث بات آگے نہیں بڑھ سکی۔
انگولا آج بھی روسی ساختہ Su-30K لڑاکا طیارے، T-72 ٹینک، Mi-17 اور Mi-24 ہیلی کاپٹر اور کئی فضائی دفاعی نظام استعمال کرتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں وہ مغربی ممالک سے بھی دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے۔
مصر افریقہ کے اُن ممالک میں شامل ہے جو مختلف ممالک سے اسلحہ خریدتے ہیں۔
مصر روسی MiG-29M/M2 لڑاکا طیارے اور Ka-52 اٹیک ہیلی کاپٹر استعمال کرتا ہے۔
اس کے فضائی دفاعی نظام میں S-300VM، Buk-M2E، Tor، Pantsir سمیت کئی روسی نظام شامل ہیں۔2019 میں روس سے Su-35 طیاروں کی خریداری پر امریکہ نے پابندیوں کی دھمکی دی تھی، تاہم یہ طیارے مصری فضائیہ میں شامل نہیں ہو سکے۔
جولائی 2025 میں امریکہ نے مصر کو تقریباً 4.67 ارب ڈالر مالیت کے NASAMS فضائی دفاعی نظام کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قاہرہ اب دفاعی خریداری میں زیادہ توازن اختیار کر رہا ہے۔
مراکش کا جھکاؤ امریکہ اور اسرائیل کی طرف،دوسری جانب مراکش نے حالیہ برسوں میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔
2021 سے 2025 کے دوران مراکش افریقہ میں بڑے ہتھیار درآمد کرنے والا نمایاں ملک بن گیا۔
اس عرصے میں اس کی 60 فیصد دفاعی درآمدات امریکہ جبکہ 24 فیصد اسرائیل سے آئیں۔
اسی لیے ماہرین کے مطابق مراکش کو ایس-400 کے ممکنہ خریداروں میں شامل کرنا زیادہ حقیقت پسندانہ نہیں۔
ایتھوپیا بھی روسی ساختہ Su-27 لڑاکا طیارے، Mi-24 ہیلی کاپٹر، T-72 ٹینک اور Pantsir-S1 فضائی دفاعی نظام استعمال کرتا ہے۔
روس اور ایتھوپیا نے حالیہ برسوں میں دفاعی تربیت، ٹیکنالوجی اور فوجی تعاون کے کئی معاہدے کیے ہیں، تاہم ایتھوپیا نے بھی ترکی کے ایس-400 میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
ترکی نے 2019 میں روس سے ایس-400 خریدنے کا فیصلہ کیا، جس پر امریکہ نے سخت اعتراض کیا۔
واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ ایس-400 کی موجودگی میں ایف-35 کی حساس اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے راز روس تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس کےبعد ترکی کو ایف-35 پروگرام سے خارج کر دیا گیا۔
امریکی قانون CAATSA کے تحت 2020 میں ترکیہ کی دفاعی صنعت پر پابندیاں لگائی گئیں۔
ترک کمپنیاں ایف-35 کے 900 سے زائد پرزے تیار کر رہی تھیں، اور انہیں مستقبل میں 9 ارب ڈالر سے زیادہ کا صنعتی فائدہ متوقع تھا، جو ختم ہو گیا۔
کیا ترکیہ دوبارہ ایف-35 حاصل کر سکے گا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں اشارہ دیا ہے کہ امریکہ ترکیہ پر عائد پابندیاں نرم کرنے اور ایف-35 کی فروخت پر دوبارہ غور کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔
تاہم اس کے لیے ترکی کو پہلے ایس-400 نظام سے مکمل طور پر دستبردار ہونا ہوگا اور امریکی کانگریس کی منظوری بھی درکار ہوگی۔
ترکی کا ایس-400 تنازع صرف ایک دفاعی معاہدے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ آج کی دنیا میں روس، امریکہ، چین اور یورپی طاقتوں کے درمیان دفاعی توازن قائم کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
الجزائر کی روس پر انحصار، مصر کی متوازن دفاعی پالیسی، مراکش کی مغرب سے قربت اور ایتھوپیا کے بڑھتے ہوئے روسی تعلقات اس بات کی مثال ہیں کہ جدید اسلحہ خریدنے کے فیصلے صرف عسکری نہیں بلکہ سفارتی، معاشی اور تزویراتی نتائج بھی رکھتے ہیں۔












